سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انسانی اسمگلنگ اور بھکاریوں کے حوالے سے سزاؤں میں اضافہ کرنے والے دو اہم بلز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں حکومت کی جانب سے "پریونشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس" بل پیش کیا گیا۔ سیکریٹری داخلہ خرم آغا نے اجلاس میں بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کی صورتحال بہت زیادہ سنگین ہو چکی ہے، اور اس بل میں اسمگلنگ کے مرتکب افراد کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ بل کے مطابق، اسمگلنگ کے مجرمان کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے گا، جس میں سب سے بڑی سزا کو 7 سال سے بڑھا کر 10 سال تک کر دیا جائے گا۔ سینیٹر شہادت اعوان نے سزاؤں میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے ملزمان کی ضمانتیں جلد نہیں ہو پائیں گی، جس کے نتیجے میں اس بل کو جلد پاس کر دینا چاہیے۔
اس کے بعد، کمیٹی نے بھکاریوں کے حوالے سے بھی سزاؤں میں اضافہ کرنے والے ایک بل کو منظور کیا۔ وزارت قانون نے بتایا کہ اس بل میں نہ صرف بھکاریوں کی معاونت کرنے والوں بلکہ بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے سہولت کاروں کی سزاؤں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اب ان افراد کو 10 سال تک کی سزا دی جا سکے گی۔کمیٹی نے دونوں بلز کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا کہ ان اقدامات سے انسانی اسمگلنگ اور بھکاریوں کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی اور ان سے متعلق قوانین مزید موثر ہو سکیں گے۔