ملاوٹ مافیا کو سزائیں ، قانون لٹک گیا

  آٹا ،چینی ،گھی ،دودھ ،پانی،پتی ،مصالحہ جات اور دیگر اشیا میں ملاوٹ پر فوجداری مقدمات ہوئے نہ عدالتیں قائم ہو سکیں 
 لاہور ( کرائم رپورٹر)ملاوٹ مافیا کیخلاف سخت قانون کی سمری 3 ماہ سے التوا کا شکار ہے۔ تفصیل کے مطابق آٹا ،چینی ،گھی ،دودھ ،پانی،پتی ،مصالحہ جات اور دیگر اشیا میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہو سکے اور نہ ہی عدالتیں قائم ہو سکیں۔ذرائع کے مطابق ملاوٹ مافیا کیخلاف تیارسمری مبینہ طور پر رک گئی ہے۔دستاویزات کے مطابق رجسٹرڈ فوڈ بزنس کے نام پر جعلی پیکنگ کرنے والوں کیخلاف فوجداری مقدمات بننا تھے،خوراک آئٹمز کی در آمد کے وقت بھی معیار کا جائزہ لیا جانا تھا،فوڈ میں شامل اجزا ، تاریخ اجرا ، تنسیخ سمیت دیگر کی لیبلنگ کرنا بھی لازمی ہوگی۔فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011میں قانونی ترامیم کی منظوری پنجاب کابینہ نے دینی ہے، خوراک میں مصنوعی اجزا کا استعمال کرنے والوں کیخلاف سخت سزا وجزا ہو گی،وارننگ کے باوجود صحت دشمن عناصر کو جرمانوں کے ساتھ بلیک لسٹ کیا جا سکے گا،قوانین میں ترامیم کے بعد ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے اختیارت میں مزید اضافہ کیا جائے گا، بلیک لسٹ فوڈ آپریٹرز کے بزنس کو 6 ماہ سے زائد عرصہ تک سیل کر سکے گا،قانونی ترامیم سمری سیکرٹری اجمل بھٹی نے پنجاب کابینہ کمیٹی کو ارسال کرنی ہے،ملاوٹ مافیا کی سزا و جزا کیلئے سماعت کرنے والی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں نہ آ سکا۔سیکرٹری پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ پنجاب اجمل بھٹی کا کہنا ہے کہ بہت جلد فوڈ اتھارٹی 2011کے قانون میں ترامیم کی جائیں گی