امریکا اور چین میں تجارتی جنگ شدید، چین کا جوابی وار

امریکا اور چین میں تجارتی جنگ شدید، چین کا جوابی وار

امریکا کی جانب سے چینی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد چین نے سخت ردعمل دیا ہے اور امریکی اشیاء پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

چین کا جوابی اقدام:
چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا سے درآمد کی جانے والی ایل این جی (Liquefied Natural Gas) اور کوئلے پر 15 فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جبکہ خام تیل، زرعی مشینری اور پک اپ ٹرک پر 10 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا۔

چینی وزارت کامرس کا موقف:
چینی وزارت کامرس نے کہا ہے کہ امریکی اقدامات ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چین اپنی معیشت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا اور امریکی مصنوعات پر اضافی محصولات لگانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

امریکی ٹیرف کا پسِ منظر:
دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، کینیڈا اور میکسیکو سمیت کئی بڑے تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف لاگو کیے تھے۔ اس اقدام کے تحت چین سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد چین نے یہ جوابی ردعمل دیا۔

کینیڈا اور میکسیکو کا معاملہ:
کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے فی الحال کینیڈا پر اضافی ٹیرف لگانے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ کینیڈا اور میکسیکو کی جانب سے سرحدی نگرانی سخت کرنے کے وعدے کے بعد کیا ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات:
امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر رہی ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں بلکہ عالمی تجارتی نظام پر بھی سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تنازعہ عالمی منڈیوں میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ کاروباری ادارے بھی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اگلے ممکنہ اقدامات:
چین مزید امریکی اشیاء پر اضافی محصولات عائد کر سکتا ہے۔امریکا چین کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے کا عندیہ دے سکتا ہے۔ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) میں دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔یہ تنازعہ امریکی اور چینی منڈیوں کے علاوہ دیگر عالمی معیشتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ تجارتی شراکت دار بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔