ڈھاکہ: بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں تنخواہوں کے تنازع پر دربار راجشاہی کے مالک شفیق الرحمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، شفیق الرحمان نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 10 فروری تک تمام ادائیگیاں قسطوں میں مکمل کر دیں گے۔ اس سے قبل، انہوں نے غیرملکی کھلاڑیوں کے واپسی کے ٹکٹس کا بندوبست کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم کئی غیرملکی کرکٹرز، بشمول پاکستانی کھلاڑی محمد حارث، وطن واپسی میں مشکلات کا شکار ہوگئے۔فرنچائز کی جانب سے معاوضوں کی عدم ادائیگی کے باعث کھلاڑیوں نے پریکٹس اور گروپ اسٹیج میچز کا بائیکاٹ کردیا، جس کی وجہ سے ٹیم کو مقامی کرکٹرز کی خدمات لینا پڑیں۔مزید برآں، مقامی کھلاڑیوں کے چیک باؤنس ہونے، ہوٹل کی ادائیگی نہ ہونے اور ڈرائیور کے جانب سے بقایاجات ادا نہ ہونے تک کھلاڑیوں کی کٹس بس میں بند کرنے جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔
اس اسکینڈل کے باعث بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، جس پر وزارتِ کھیل نے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ شفیق الرحمان نے پہلے 2 فروری تک 50 فیصد ادائیگی کا وعدہ کیا تھا، مگر اس پر عمل نہ ہونے کے بعد حکومت نے ایکشن لے کر انہیں گرفتار کر لیا۔وزارتِ کھیل کے مطابق، شفیق الرحمان نے اپنی غلطی تسلیم کرلی اور 10 فروری تک تمام واجبات تین قسطوں میں ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، پہلی قسط پیر کو، دوسری 7 فروری اور آخری 10 فروری کو ادا کی جائے گی۔