فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران زور دیا ہے کہ چین یوکرین جنگ کے خاتمے، عالمی تجارت کے توازن اور ماحولیاتی مسائل پر یورپ کے ساتھ مزید مؤثر اور نتیجہ خیز تعاون کرے۔
میکرون اپنے چوتھے سرکاری دورۂ چین پر ہیں، جس میں ایک بڑے فرانسیسی کاروباری وفد بھی ان کے ہمراہ ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد چین کے ساتھ تجارتی مواقع کو بڑھانا اور عالمی تنازعات میں سفارتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔میکرون نے واضح کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں چین اور فرانس کے درمیان مضبوط اور نتیجہ خیز مکالمہ پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے ایک تین نکاتی ایجنڈے کی تجویز پیش کی، جس میں جغرافیائی استحکام، معیشتی توازن، اور ماحول دوست پالیسیوں کو بنیادی ہدف قرار دیا گیا ہے۔ ان کا مقصد عالمی امن و استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔اس دوران چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں بدلتے ہوئے حالات میں اپنی اسٹریٹیجک خودمختاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین یوکرین اور غزہ کے بحران میں امن قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا، تاکہ عالمی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے 12 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں نیوکلیئر انرجی، سرمایہ کاری، بڑھتی عمر کی آبادی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور پانڈا کنزرویشن جیسی اہم شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ اس کے علاوہ، یہ معاہدے عالمی سطح پر چین اور فرانس کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا اظہار ہیں۔
اگرچہ اس دورے سے بڑے تجارتی معاہدوں کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم موجودہ تجارتی کشیدگی، امریکی ٹیکس پالیسیوں، اور یورپی یونین کے حفاظتی اقدامات کے باعث بڑے فیصلوں کے امکانات محدود نظر آ رہے ہیں۔ خاص طور پر، ایئر بس کی ممکنہ 500 طیاروں کی ڈیل پر کوئی بڑی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، اور فرانسیسی الکوحل مصنوعات اور یورپی مصنوعات پر چینی ڈیوٹیز برقرار رہنے کا امکان ہے۔تجارتی سطح پر، چین اور فرانس کے بیچ عدم توازن جاری ہے، جہاں چین فرانس سے سالانہ تقریباً 35 ارب ڈالر کی مصنوعات درآمد کرتا ہے، جبکہ فرانس چین سے تقریباً 45 ارب ڈالر کی اشیاء خریدتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی درآمدات میں اضافہ اور توازن برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کے بیچ مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔میکرون نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک ایسے عالمی تجارتی نظام کی بنیاد رکھنی چاہیے جو زیادہ منصفانہ، پائیدار اور سپلائی چین کو غیر یقینی صورتحال سے بچانے والا ہو۔ اس سے عالمی معیشت میں استحکام اور ترقی ممکن ہے، اور یہ دونوں ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔