مشہور اداکارہ ماہرہ خان نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں اپنی ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات کی اور انکشاف کیا کہ وہ ماضی میں شدید ڈپریشن کا شکار رہ چکی ہیں۔
ذہنی صحت کے مسائل اور جدوجہد
ماہرہ نے بتایا کہ 2016 میں بالی ووڈ فلم رئیس کی ریلیز کے بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہونے والی سخت تنقید نے انہیں گہرے ڈپریشن میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس مشکل وقت میں وہ ذہنی دباؤ اور کیمیائی عدم توازن کا شکار ہوئیں، جس نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
مدد اور علاج کا ذکر
ماہرہ نے کہا کہ دوستوں، اہل خانہ، اور خاص طور پر اپنے بیٹے کی مدد نے انہیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دی۔انہوں نے ادویات اور روحانی سکون کو اپنی بحالی کے لیے اہم قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ادویات نے ان کے لیے ایک اہم کردار ادا کیا اور اس دوران وہ خدا کے قریب ہو گئیں۔
ڈپریشن سے متعلق اہم پیغام
ماہرہ نے ڈپریشن کو ایک بیماری قرار دیا جس کا علاج ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ذہنی صحت کے مسائل کے شکار افراد کو اپنی حالت کے بارے میں کھل کر بات کرنی چاہیے اور ماہرین سے مدد لینے میں شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ماہرہ نے واضح کیا کہ ڈپریشن کسی کی کمزوری نہیں بلکہ ایک عام طبی مسئلہ ہے۔مثبت رویہ اور آگاہی کی اہمیت اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے میں ذہنی صحت کے بارے میں گفتگو کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ لوگ اپنی مشکلات کا سامنا کر سکیں اور ان کا مناسب علاج کرا سکیں۔ماہرہ کی یہ گفتگو نہ صرف ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی کا ذریعہ بنی بلکہ ان کی کہانی ان لوگوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے جو ڈپریشن یا دیگر ذہنی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔