وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی حاضری کی نگرانی کے لیے فیشل ریکگنیشن اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سسٹم (فریمز) کی منظوری دے دی۔
مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت محکمہ اسکول ایجوکیشن کا اجلاس ہوا، جس میں وزیرِ تعلیم سندھ سردار شاہ، چیف سیکرٹری سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وزیرِ تعلیم سندھ نے وزیراعلیٰ کو فریمز سسٹم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیٹا پر مبنی گورننس کے ذریعے تعلیمی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم کے نفاذ کے لیے تمام تکنیکی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں صوبے کے ہر ڈویژن سے ایک ضلع منتخب کیا گیا ہے، جبکہ محدود انٹرنیٹ والے علاقوں میں بھی یہ نظام مؤثر انداز میں کام کرے گا۔ اسکولوں کی جیو ٹیگنگ مکمل کر لی گئی ہے اور اساتذہ کی آمد و روانگی کا ریکارڈ خودکار طریقے سے محفوظ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ منتخب 6 اضلاع میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے، جہاں 17 اگست سے فریمز سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اساتذہ کی حاضری بہتر تعلیمی نتائج کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ہر بچے کا حق ہے کہ اسے معیاری تعلیم فراہم کی جائے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ اور اسکول عملہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے تعلیمی نظام میں شفافیت، احتساب اور نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ کامیاب نفاذ کے بعد اس سسٹم کو مرحلہ وار سندھ کے تمام اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے فریمز کو تعلیمی شعبے میں اہم گورننس اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اسکولوں میں نظم و ضبط، کارکردگی اور مؤثر نگرانی کو فروغ ملے گا۔