جنوبی وزیرستان میں تعلیمی نظام کی صورتحال پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ متعدد سرکاری اساتذہ برسوں سے اسکولوں سے غیر حاضر ہیں، تاہم انہیں باقاعدگی سے تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔
اساتذہ کی مبینہ غیر حاضری کے باعث ہزاروں بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔شہریوں کے مطابق جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہوچکی ہے۔ متعدد اساتذہ مبینہ طور پر سرکاری تنخواہیں وصول کرنے کے باوجود اپنے فرائض انجام نہیں دے رہے اور بعض دیگر مقامات پر ملازمت یا ذاتی کاموں میں مصروف ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی خراب صورتحال کی بنیادی وجہ صرف سکیورٹی مسائل نہیں بلکہ اساتذہ کی مسلسل غیر حاضری اور متعلقہ محکموں کی ناقص نگرانی بھی ہے۔ ان کے مطابق کئی اسکولوں میں اساتذہ کی عدم موجودگی کے باعث بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر نہیں۔شہریوں نے الزام عائد کیا کہ بعض علاقوں میں اسکولوں کی عمارتیں تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے مقامی افراد کے ذاتی حجروں کے طور پر استعمال ہورہی ہیں، جبکہ بچے اسکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کئی برسوں سے برقرار ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
علاقہ مکینوں نے سابقہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے دور میں تعلیمی نظام کی نگرانی اور بہتری کے لیے اقدامات نہ ہونے پر بھی تنقید کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ برسوں میں تعلیمی اداروں کی صورتحال بہتر بنانے کے بجائے مسائل میں مزید اضافہ ہوا۔شہریوں کے مطابق لوئر وزیرستان میں بھی متعدد اساتذہ کی طویل عرصے سے غیر حاضری کی شکایات موجود ہیں، جبکہ جنوبی وزیرستان کے بعض علاقوں میں سینکڑوں اساتذہ کی موجودگی صرف سرکاری ریکارڈ تک محدود ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر حاضر اساتذہ کو لاکھوں روپے کی تنخواہوں کی ادائیگی کے باوجود ان کی حاضری اور کارکردگی کی مؤثر نگرانی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق متعلقہ تعلیمی افسران دور دراز علاقوں میں واقع اسکولوں کے باقاعدہ دورے نہیں کرتے، جس کے باعث مبینہ طور پر غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی نہیں ہوپاتی۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک نظام متعارف کرایا جائے اور غیر حاضر اساتذہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔دوسری جانب شہریوں نے گورنر راج کے دوران تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے شروع کی جانے والی کارروائیوں کو ضروری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور محکمہ تعلیم میں موجود مبینہ بدعنوان عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے فوری اور مستقل اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش اور اساتذہ کی غیر حاضری نئی نسل کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔