سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق سب سے سخت الزام یہ ہے کہ امریکی قیادت نے پاکستان کوایک سٹرٹیجک فریب کے ذریعے جال میں پھنسایااوراس تصورمیں اسرائیل،بھارت اورمتحدہ عرب امارات کوبھی شریک قراردیاگیاہے۔اسی سلسلے میں پاکستان کے اندردہشتگردی،معاشی کمزوری اورسیاسی عدم استحکام بھی ایک وسیع منصوبے سے مربوط کرنے کے واضح اشارے ہیں اوریہ الزامات اپنی نوعیت میں نہایت سنگین ہیں۔
تحقیق کاوقاراسی میں ہے کہ جہاں دستاویزی شہادت نہ ہووہاں یقین کاجامہ نہ پہنایاجائے۔ریاستوں کے درمیان خفیہ تعاون،انٹیلی جنس سرگرمیاں اورپراکسی مقابلے عالمی سیاست کاحصہ رہے ہیں،لیکن کسی مخصوص دہشتگردی کی لہریاداخلی سیاسی بحران کوکسی بین الاقوامی مشترکہ منصوبے سے قطعی طورپرجوڑنے کیلئے سرکاری دستاویزات،معتبرانٹیلی جنس شواہد،عدالتی موادیامتعددآزادذرائع درکارہوتے ہیں۔اس لیے اس مفروضے کوایک تجزیاتی دعوے کے طورپرپڑھنازیادہ ذمہ دارانہ ہے۔شک تحقیق کادروازہ کھولتاہے،مگر ثبوت کے بغیرشک کوفیصلہ بنادینا تحقیق کادروازہ بندکردیتاہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فلسطین کامسئلہ محض خارجہ تعلقات کاایک خانہ نہیں؛یہ تاریخی،مذہبی،اخلاقی اورعوامی جذبات سے گہراتعلق رکھتاہے۔پاکستان نے طویل عرصے سے
فلسطینی حقِ خودارادیت اورایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔اسی لیے اسرائیل کوتسلیم کرنے کامسئلہ پاکستان میں ہمیشہ غیرمعمولی حساسیت رکھتا ہے۔تاہم یہ خدشات موجودہیں کہ واشنگٹن پاکستان کے مشرقِ وسطی میں اثرورسوخ،ایران اوردیگرمسلم ممالک کے ساتھ اس کے روابط کواستعمال کرتے ہوئے اسے ابراہام اکارڈکے وسیع تر سیاسی ماحول کی طرف لاناچاہتاہے لیکن ابھی تک اس کاکوئی ثبوت موجودنہیں۔
یہاں یہ سمجھناضروری ہے کہ مشرقِ وسطی اب پرانے سانچوں میں محدود نہیں رہا۔سعودی عرب،ایران،ترکیہ،امارات،قطر،اسرائیل اور امریکاسب اپنے اپنے مفادات کے دائروں میں نئی صف بندیاں تشکیل دیتے رہے ہیں۔پاکستان کیلئے چیلنج یہ ہے کہ وہ نہ کسی ایسے اتحاد میں بے سوچے سمجھے جذب ہوجس سے اس کی تاریخی پالیسی متاثرہو،نہ ایسی جذباتی تنہائی اختیارکرے جس سے اس کے معاشی و سفارتی مفادات مجروح ہوں۔دانائی کاراستہ اکثردوانتہاؤں کے درمیان سے گزرتاہے۔
پاکستان کی جغرافیائی تقدیرنے اسے ایک ایسے سنگم پرکھڑاکیاہے جہاں چین،بھارت،ایران،افغانستان،بحیرہ عرب اورخلیجی دنیاسب اس کے براہِ راست تزویراتی ماحول کاحصہ ہیں۔ایران پاکستان کاہمسایہ ہے؛سعودی عرب اورخلیجی ریاستیں گہرے اقتصادی،مذہبی اور انسانی روابط رکھتی ہیں؛امریکاعالمی مالیاتی وعسکری نظام میں اہم کرداررکھتاہے؛چین پاکستان کاسب سے نمایاں تزویراتی شراکت دار بن چکاہے۔ایسے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی ایک محورکی غلام نہیں ہوسکتی۔وہ کشتی جوایک ہی لنگرپرپوراسمندرعبورکرنا چاہے، پہلی بڑی آندھی میں خطرے میں پڑجاتی ہے۔
پاکستان کی اصل ضرورت سٹریٹجک خودمختاری ہے-ایک آزادخارجہ پالیسی جس میں تعلقات شامل ہوں لیکن انحصارنہیں،تعاون لیکن ماتحتی نہیں،اوردوستی لیکن قومی مفادکی قیمت پر نہیں۔کیاامریکا واقعی ہمیشہ ناقابلِ اعتمادرہا؟یہ سوال جذبات سے نہیں،تاریخی میزان سے جواب مانگتاہے۔یہ کہنادرست ہوگاکہ پاکامریکا تعلقات میں بارہا شدیداتار چڑھاؤ آیا ،امریکی پالیسی اکثراس کے عالمی مفادات کے تابع رہی،اورپاکستان میں کئی مواقع پریہ احساس پیداہوا کہ ضرورت ختم ہوتے ہی امریکی ترجیحات تبدیل ہوگئیں لیکن مکمل تاریخ کادوسرارخ بھی موجودہے۔امریکاکئی ادوارمیں پاکستان کابڑا تجارتی شراکت دار،ترقیاتی امدادکاذریعہ،دفاعی معاون،تعلیمی مواقع کامرکزاورعالمی مالیاتی نظام میں اہم رابطہ رہا۔دونوں ملکوں کے عسکری،سفارتی،کاروباری اورعوامی روابط سات دہائیوں سے موجود ہیں۔لہذامسئلہ شایدیہ نہیں کہ امریکادوست ہے یادشمن۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اس تعلق کوکس حدتک مفادات کے حقیقت پسندانہ ادراک کے ساتھ چلایا،او کس حدتک شخصیات،وقتی مراعات یافوری سیاسی ضرورتوں کے تابع کردیا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں شخصی مفادکے تابع ہونے سے پاکستان کی خودمختاری کوشدیدنقصان اورامریکاکوخوب فائدہ ہواہے۔یہ نکتہ پاکستان کیلئے اندرونی احتساب کادروازہ بھی کھولتا ہے اوراس احتساب کی زدمیں یقینااشرافیہ اورسیاسی رہنماں کی ایک لمبی فہرست ہے۔
ہرناکامی کاسبب بیرونی ہاتھ قراردے دینے سے قومیں اپنے داخلی کمزورہاتھوں کودیکھنابھول جاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ پھراصل مسئلہ کیاہے؟خارجہ پالیسی یاداخلی کمزوری؟دنیامیں کمزورمعیشت کے ساتھ مکمل خودمختارخارجہ پالیسی قائم رکھنادشوارہوتاہے۔قرض مانگنے والی ریاست کی آوازاورقرض دینے والی ریاست کی آوازکاوزن عالمی مجلس میں یکساں نہیں ہوتا۔سیاسی عدم استحکام،کمزور ادارے،توانائی بحران،برآمدات کی کمی،پالیسیوں کاعدم تسلسل اورداخلی تقسیم کسی بھی بیرونی قوت کیلئے اثراندازہونے کے امکانات بڑھادیتے ہیں ۔اگرپاکستان چاہتاہے کہ واشنگٹن،بیجنگ،ریاض،تہران،انقرہ یاابوظہبی کے ساتھ اس کے تعلقات قومی مفادکی بنیادپرہوں توپہلی جنگ کسی بیرونی دارالحکومت میں نہیں بلکہ اپنے گھرکے اندرجیتناہوگی۔اقتصادی خودانحصاری،ادارہ جاتی استحکام، قانون کی حکمرانی،قومی اتفاقِ رائے اورانسانی سرمائے میں سرمایہ کاری وہ قلعے ہیں جنہیں میزائلوں سے زیادہ دیرپادفاع حاصل ہوتاہے۔
قرآنِ حکیم کااصول ہے:خدانے اس قوم کی حالت نہیں بدلی جسے خوداپنی حالت بدلنے کاخیال نہ ہو۔قوموں کی تقدیرکاقلم صرف بیرونی ہاتھ نہیں لکھتے؛بہت سی سطریں ان کے اپنیے کردارسے بھی رقم ہوتی ہیں۔ان خطرات سے بچنے کیلئے پاکستان کوکیاکرناچاہیے؟پاکستان کے سامنے راستہ امریکادشمنی یاامریکاپرستی میں سے کسی ایک کاانتخاب نہیں۔اسے پاکستان دوستی کاانتخاب کرناچاہیے۔امریکاکے ساتھ تجارت،سرمایہ کاری،ٹیکنالوجی،تعلیم اورانسدادِ دہشتگردی میں تعاون ہوسکتاہے؛چین کے ساتھ سی پیک،دفاعی شراکت اور صنعتی ترقی آگے بڑھ سکتی ہے؛ایران کے ساتھ سرحدی سلامتی اورتجارت بہترہوسکتی ہے؛سعودی عرب،ترکیہ اورخلیجی ریاستوں کے ساتھ تعاون گہراہوسکتاہے۔یہ سب ایک دوسرے کی نفی کیے بغیرممکن ہیں،بشرطیکہ اسلام آباد کی پالیسی کاقبلہ بیرونی دارالحکومت نہیں بلکہ پاکستان کادیرپا قومی مفادہو۔
سی پیک اورگوادرکوبھی نعرے سے نکال کرحقیقی اقتصادی فعالیت میں بدلناہوگا۔بندرگاہ صرف کنکریٹ کے ساحل کا نام نہیں؛اسے ریل،شاہراہ،صنعت،توانائی،امن،مقامی آبادی کی شمولیت اورعالمی تجارت سے مربوط کرناپڑتاہے۔ورنہ نقشے پرکھینچی ہوئی عظیم شاہراہ بھی زمینی معیشت میں محض ایک خواب رہ جاتی ہے۔نتیجہ،دوستیاں نہیں،مفادات مستقل ہوتے ہیں۔
پاکستان اورامریکاکی75برس سے زائدتاریخ ہمیں ایک سادہ مگرگراں قدرسبق دیتی ہے:بین الاقوامی سیاست میں دائمی محبتیں بہت کم اور دائمی مفادات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔
امریکانے جہاں اپنے مفادمیں پاکستان سے قربت اختیارکی،وہیں پاکستان نے بھی اپنے دفاعی،معاشی اورسفارتی مفادات کیلئے امریکاسے تعاون کیا۔مسئلہ تعاون میں نہیں؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتاہے جب تعاون کودائمی وفاداری کانام دے دیا جائے۔ریاستیں درویشوں کی خانقاہیں نہیں ہوتیں کہ وہاں تعلق بے غرض عقیدت پر قائم ہو۔وہ بازارِ سیاست کی وہ دکانیں ہیں جہاں ہرمسکراہٹ کے پیچھے حساب اورہرمصافحے کے نیچے مفادکی نبض دھڑکتی ہے۔مگراس حقیقت کامطلب بدگمانی،تنہائی یاہرحادثے کے پیچھے سازش تلاش کرنابھی نہیں۔بصیرت کامقام ان دونوں انتہاؤں سے بلندہے۔پاکستان کوامریکاکے بارے میں نہ وہ سادہ لوح خوش فہمی زیب دیتی ہے جس میں ہروعدہ عہدِوفا معلوم ہو،
نہ وہ بے لگام بدگمانی جس میں ہربحران کے پیچھے واشنگٹن کاہاتھ دکھائی دے۔ قومی حکمت وہ ہے جودوست کی مسکراہٹ بھی پڑھے،حریف کی خاموشی بھی؛معاہدے کی سطربھی دیکھے اوراس کے حاشیے میں چھپی مصلحت بھی۔
پاک چین تعلق ہویاپاک امریکارابطہ،گوادرہویاسی پیک،کشمیرہویافلسطین،ایران ہویاخلیجی دنیاہرسمت پاکستان کوایک ہی چراغ لے کرچلناہوگا:اپناقومی مفاد،اپنی اقتصادی قوت، اپنی سیاسی خودمختاری اوراپنے اصولوں سے وفاداری،کیونکہ تاریخ کادریاکمزورکشتیوں سے رحم نہیں کرتا۔وہ قومیں جوہرنئے بادبان کونجات دہندہ سمجھ لیتی ہیں،اکثرہواکے رخ کے ساتھ بہتی رہتی ہیں؛مگرجواپنے جہازکی کیل مضبوط کرتی،قطب نمادرست رکھتی اورملاح کومنزل کاشعو دیتی ہیں،وہ طوفانوں کے درمیان بھی اپناراستہ بنالیتی ہیں۔
پاکستان کیلئے اصل سوال یہ نہیں کہ امریکاکب تک ہمارادوست رہے گا۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کب اس قدرمضبوط،خودداراور معاشی وسیاسی طورپرمستحکم ہوگاکہ کسی دوسرے ملک کی دوستی یاناراضگی اس کی قومی تقدیرکافیصلہ نہ کرسکے؟یہی سوال ماضی کے آئینے میں حال کاچہرہ بھی دکھاتاہے اورمستقبل کے دروازے پردستک بھی دیتاہے۔اورشایدتاریخ کاسب سے معتبرسبق یہی ہے:جوقوم اپنی تقدیرکاقلم خودتھام لے،دنیااس کیلئے فیصلے لکھنے کی بجائے اس کے ساتھ فیصلے کرنے پرمجبورہوجاتی ہے۔