عتیق چوہدری
جنوبی ایشیا کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قیادت کا فقدان اور باہمی تعاون کمی ہے، جس کی تصدیق بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی رپورٹس بھی کرتی ہیں۔ عالمی بینکاور ایشین ڈویلپمنٹ بینککی رپورٹوں کے مطابقیہ خطہ جغرافیائی قربت کے باوجود دنیا میں سب سے کم علاقائی تجارت رکھتا ہے، جو اس کی کل تجارتی صلاحیت کا صرف 5 فیصد ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا کے ممالک یورپی یونینیا آسیان (ASEAN) کی طرح باہمی رابطوں کو مضبوط کریں تو خطے کی مجموعی خام قومی پیداوار (GDP) میں ایک تہائیتک اضافہ ہو سکتا ہے۔ وِل ڈریکسلر (Will Drexler) کی رپورٹ کے مطابق"جنوبی ایشیا کی معاشی قوت کو سیاسی انا نے یرغمال بنا رکھا ہے، جس سے خطے کے حکمران مشترکہ معاشی اہداف کی بجائے قومی سلامتی کے تنگ نظریاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، اور اسی وجہ سے سارک (SAARC) جیسی تنظیمیں مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں" جو کروڑوں لوگوں کی ترقی کے امکانات کو محدود کر رہی ہے۔واشنگٹن میں قائم ووڈرو ولسن سینٹر کے ساؤتھ ایشیا پروگرام کے مطابق جنوبی ایشیا میں بھارت کی موجودہ پالیسیوں میں علاقائی قیادت کا فقدان جھلکتا ہے۔ نئی دہلی کی ترجیحات علاقائی تعاون کے بجائے اندرونی سیاست اور تاریخی بیانیہ کی طرف مائل ہیں، جس سے پڑوسی ممالک میں گھٹن بڑھ رہی ہے۔مودی کی انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے ماہرین سوال اٹھارہے ہیں کہ کیا جنوبی ایشیا میں کبھی مکمل امن قائم ہوگا؟ کیا مودی ازم ہی دو ارب سے زیادہ انسانوں کو یرغمال بنائے رکھے گا؟ جس طرح یورپ نے مشترکہ اصولوں کے تحت اتفاق و اتحاد کیا اور اپنی طاقت کو معاشی و سماجی ترقی کے لئے استعمال کیا۔ کیا کبھی ایشیا کے ممالک بھی ایسا کرپائیں گے ؟ کیا کبھی ایشیا کے مسائل ، لڑائی جھگڑے ختم ہونگے ؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ دنیا کی کل آبادی کا 25 فیصد ہے، یعنی ایک چوتھائی عالمی آبادی سخت گھٹن میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ خطہ جو تاریخ میں تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے، آج قومی انا اور سیاسی رنجشوں کا یرغمال ہے۔یورپی یونینکی کامیابی کا راز دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد مشترکہ خوشحالی کے لیے قومی انا کو پس پشت ڈالنے میں پنہاں ہے۔ یورپی ممالک نیجو کبھی ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے، شینجن ایریا کے تحت پاسپورٹ ویزے ختم کیے اور مشترکہ کرنسی یورو اپنا کر آگے کی سوچ پیدا کی۔اس کے برعکس، جنوبی ایشیا کی قیادت محض تاریخی رنجشوں اور انتخابی سیاست اور وقتی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام غربت کے شنکجے میں پھنستی جارہی ہے اور تعلیم ، صحت ،روزگار، بہتر معیاری زندگی کی فراہمی ،امن و سیکیورٹی جیسے اہم ایشوز پس پشت چلے گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ علاقائی تعاون کے لیے بنائی گئی سارک (SAARC) تنظیم جمود کا شکار ہے۔ ماہر اقتصادیات جیفری سیکسجو اقوام متحدہ کے سابق مشیر بھی رہے ہیں اپنی تحقیق رپورٹس میں کہتے ہیں کہ پائیدار ترقی کے لیے علاقائی معاشی بلاکس کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا کی ناکامی کو "سیاسی انا پر مبنی علاقائی تعاون کے فقدان" سے تعبیر کرتے ہیں۔ برکس (BRICS) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) جیسی دیگر ابھرتی ہوئی علاقائی تنظیمیں معاشی اور سیکیورٹی معاملات میں آگے بڑھ رہی ہیں، مگر جنوبی ایشیائی ممالک ان فورمز سے بھی کوئی مشترکہ فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں، جو ان کی لیڈرشپ کی بصیرت کا فقدان واضح کرتا ہے۔تاپی گیس پراجیکٹ علاقائی تعاون و ترقی کے لئے بہت فائدہ مند ہوسکتا ہے اگر اس پر ترکمانستان ، افغانستان ، پاکستان ، انڈیا کی قیادت سنجیدگی سے آگے بڑھنے کا روڈمیپ بنائے تو انرجی و گیس کی ترسیل اور اربوں ڈالر کی تجارتی راہدری کھل سکتی ہے۔ ضرورت یہ تھی کہ اس خطے کے حکمران مودی ازم کو مسترد کرتے۔ سب مل جل کر ایسی پالیسیاں اختیار کرتے کہ بھارت کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ جمہوریت پرست باشندوں کو مودی جیسے سفاک، انسان دشمن اور متعصب حکمران سے نجات ملتی۔ لیکن افسوس کہ اکثر حکمران اسی کی روش پر چل نکلے۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجدکا انجام سب کے سامنے ہے۔سری لنکا اور نیپال میں بھی اسی طرح کے رویے دیکھنے میں آئیاور پھر عوامی ردعمل مگر حکمرانوں نے کچھ نہیں سیکھا، اگرچہ وہاں کے لوگوں نے انہیں مزاحمت کر کے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔مگر اجتماعی طور ان ممالک کی قیادت نے عوام کی خوشحالی کی بجائے ذاتی و سیاسی مفادات کو اپنی ترجیح بنایا جس کا خمیازہ ان تمام کے کروڑوں لوگوں کو بگھتنا پڑ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر بین الاقوامی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کی رٹگرز یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کی پروفیسر ڈاکٹر عائشہ جلال اپنی مشہور کتاب "دی سٹرگل فار پاکستان: اے مسلم کویسٹ فار انڈیپنڈنس اینڈ دی انڈر لائننگ کازز آف فیلئیر" میں علاقائی طاقت کی جدوجہد اور اداروں کی کمزوری کو تاریخی تناظر میں بیان کرتی ہیں۔پاکستان کی بدقسمتی کہ ہمارے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اپنی علالت کے باعث صرف ایک سال ہی اس نئی مملکت کو دے سکے۔ ان کے بعد لیاقت علی خان کو تین سال بعد راستے سے ہٹا دیا گیا۔ پاکستان کے پاس وسائل بیکراں تھے، لیکن ہمارے کسی شعبے کی پالیسیوں میں تسلسل نہ رہا۔قیام پاکستان سے پہلے کے قائد اعظم کے بیانات، تقاریر اور خطوط کا مطالعہ کیا جائے تو کسی بھی محقق کو ایک آزاد جمہوری مملکت کے خطوط، حدود اور لائحہ عمل میسر آسکتے ہیں۔ یہیں پر اسٹیفن پیکوہن (Stephen P. Cohen) کی کتاب "دی آرمی اینڈ ڈیموکریسی: ملٹری پولیٹکس ان پاکستان" کا حوالہ دینا لازم ہے جو پاکستان میں سیاسی اور فوجی قوت کے درمیان دائمی کشمکش اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو موضوع بناتی ہے۔پاکستان میں آگے کے بارے میں تجزیہ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ ہر چند سال بعد کوئی "مسیحا" اچانک آ کر پورے سسٹم کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔ سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کی کتاب "ریوِیوئنگ پاکستان'ز اِکونومی: پاتھ ویز ٹو ریفارم" بھی چند خاندانوں کے معاشی اثر و رسوخ اور پائیدار اقتصادی ترقی میں تسلسل کے فقدان کو واضح کرتی ہے۔ نظر آتا ہے کہ چند خاندان ہیں جو 1951 سے وسائل پر قبضہ کرتے آ رہے ہیں۔ یہی طاقتور خاندان عوام کو لسانی، نسلی، فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم بھی کرتے رہے ہیں۔دنیا بہت سے حکمرانی کے تجربات کرنے کے بعد جمہوریت کے نظام پر متفق ہوئی۔ جب بھی اس راستے سے انحراف ہوا، الیکشن روکے گئے، الیکشن کے نتائج چرائے گئے یا غیر متعلقہ شعبوں کو شامل کار کیا گیا تو ان اداروں کی پیشہ ورانہ اہلیت کو نقصان پہنچا۔
2047میں پاکستان کی سنچری ہوگی۔ تکمیل پاکستان کا مرحلہ کس سسٹم کے تحت مکمل ہوگا؟ کیا وہ مملکت قائد اعظم کے اصولوں پر مبنی ہوگی؟ اس سوال کا جواب صرف پائیدار جمہوری اور پارلیمنٹ کی سپریمیسی پر مبنی نظام میں ہی مضمر ہے، جہاں واہگہ سے گوادر تک پاکستانیوں کو یہ احساس ہو کہ وہ فیصلہ سازی میں شریک ہیں۔ جنوبی ایشیائی قیادت کا فرض ہے کہ وہ یورپی مثال سے سبق سیکھے اور علاقائی تعاون کو انا کے بجائے عوامی مفاد کی بنیاد پر استوار کرے۔اور اس خطے کے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو ان کو صحت و تعلیم کی معیاری سہولیات ،روزگار کی بہتر فراہمی ،امن و امان ،سیکیورٹی اور جان کی حفاظت ، انصاف کی فراہمی جیسی سہولیات ریاست ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے۔ معاشرے میں انتہا پسندی ، شدت پسندی جیسے رویوں کی بیخ کنی کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔