ڈاکٹر جمشید نظر
ایک گاؤں تھا… چھوٹا سا، پرانا سا، دھول مٹی سے اَٹا ہوا۔ وہاں ایک کنواں تھا جس سے پورا گاؤں پانی لیتا تھا۔ ایک دن کنویں کا پانی خشک ہو گیا۔ لوگ پریشان ہو گئے، لیکن سب اپنے اپنے کام میں لگے رہے۔ کوئی کہتا، ’’میرا تو اب شہر میں بندوبست ہو گیا ہے‘‘، کوئی بولتا، ’’میں تو نلکے سے کام چلا لوں گا‘‘… لیکن کسی نے بھی کنویں کی مرمت کے لیے ہاتھ نہ بڑھایا۔
پانچ دن بعد بدقسمتی سے گاؤں میں آگ لگ گئی۔بدحواسی میں لوگ کنویں کی طرف دوڑ کرجاتے پھر انھیں خیال آتا کہ یہ تو خشک ہوچکا ہے۔پانی نہ ہونے کی وجہ سے آگ بجھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ پورا گاؤںدیکھتے ہی دیکھتے جل کر راکھ بن گیا۔ لوگ روتے رہے اور خود کو کوستے رہے کہ انھوں نے کنویں کو مرمت کروانے کے لئے مشترکہ کوششیں کیوں نہیں کی ، لیکن اب پچھتانے کا فائدہ نہ تھا۔
اسی گاوں کا ایک بچہ کسی طرح شہر تعلیم حاصل کرنے لگ گیا، غربت اس کے پیچھے سائے کی طرح چمٹی رہی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس اپنے گاؤں جائے گا اور وہاں کے لوگوں کے لیے کچھ کرے گا۔وہ گیا، قرض پر زمین لی، ٹریکٹر خریدا،گاوں کے چندنوجوانوں کو اکٹھا کیا اور بولا: ’’ہم مل کر ایک زرعی فارم بنائیں گے، تم سب اس کے حصے دار ہو گے، مالک بھی ہو گے اور مزدور بھی۔‘‘شروع میں لوگ ہنسے، مذاق اڑایا، کچھ نے طعنے دیے، لیکن چند لوگ اس کاساتھ دینے کو تیار ہوگئے ۔ تین سال بعد وہ فارم اُس گاوں کی سب سے کامیاب زرعی زمین بن چکا تھا۔ مزدور کے بچے اسکول جا رہے تھے، بوڑھے لوگ باعزت زندگی گزار رہے تھے اور ہر شخص اپنے حصے کا مالک تھا۔کسی نے اس سے پوچھا: ’’تم نے یہ سب کیسے کیا؟‘‘وہ مسکرایا اور بولا’’میں نے صرف انہیں ایک کنواں یاد دِلایا تھا، جو سب کا تھا، لیکن سب نے اُسے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔‘‘ہم سب اُس گاؤں کے مکین ہیں… اور وہ کنواں ’’امدادِ باہمی‘‘ ہے۔ جس دن ہم نے اسے نظر انداز کیا، سمجھ لیں ہم سب جل جائیں گے… الگ الگ، خاموشی سے۔
دنیا ہر سال جولائی کے پہلے ہفتے ’’عالمی یومِ امدادِ باہمی‘‘ مناتی ہے اس سال یہ دن 5 جولائی کو آرہا ہے جس کا تھیم ہے’’، لیکن ہم میں سے شاید 99 فیصد لوگ اس دن کے نام سے بھی واقف نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہم نے سیکھا ہی نہیں کہ دوسروں کے ساتھ مل کر کیسے چلا جاتا ہے۔ ہم نے سیکھا ہی نہیں کہ ترقی صرف تنہا ممکن نہیں بلکہ قافلے کے ساتھ چل کر ہی منزل ملتی ہے۔ہمیں بچپن سے یہ تو پڑھایا گیا کہ خود کفیل بنو، اپنا سوچو، اپنا راستہ بناؤ، لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اگر سب صرف اپنا سوچیں گے تو معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی 12 فیصد سے زیادہ آبادی کسی نہ کسی امداد باہمی کے ادارے کا حصہ ہے۔دنیا کے 300 بڑے امداد باہمی کے اداروں کی کل آمدنی 2,409 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ تنظیمیں وہ خدمات اور سہولتیں مہیا کرتی ہیں جن کی معاشرے کو ترقی کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔امداد باہمی کے ادارے دنیا بھر میں 28 کروڑ لوگوں کو روزگار یا کام کے مواقع فراہم کرتے ہیں جو کہ دنیا کی کل ورکنگ آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس خواہش کا اظہار کرچکی ہیں کہ صوبے کے تمام کوآپریٹو ادارے اپنے کردار کو مثالی بناتے ہوئے معاشرتی،اقتصادی اور ماحولیاتی فلاح و بہبودمعاون ثابت ہوں۔پنجاب حکومت نے زراعٹ،انفارمیشن ٹیکنالوجی،ہاوسنگ اور دیگر شعبوں میںامداد باہمی کے بہت سے نئے منصوبے شروع کئے ہیں جن سے دیہی خواتین،نوجوان اورغریب عوام مستفید ہورہی ہے۔یومِ امدادِ باہمی کا اصل پیغام یہی ہے کہ اکیلا شخص چل تو سکتا ہے لیکن صرف قافلہ ہی منزل پر پہنچتا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے، یہاں غربت کم ہو، نوجوان خود کفیل ہوں، خواتین اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں تو پھر ہمیں امدادِ باہمی کے کنویں کو دوبارہ بھرنا ہوگا۔ ہمیں مل کر ادارے بنانے ہوں گے، فیصلے بانٹنے ہوں گے، منافع بانٹنا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر ذمہ داری بانٹنی ہوگی۔