برطانیہ کے بچوں اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گا: لارڈ شفق

برطانیہ کے بچوں اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گا: لارڈ شفق

لارڈ شفق کا ہاؤس آف لارڈز میں جذباتی خطاب، محنت کش کسان کے بیٹے کی جدوجہد کی داستان

برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پہلی بار خطاب کرتے ہوئے لارڈ شفق نے اپنی زندگی کی جدوجہد اور کامیابیوں کا احوال سناتے ہوئے کہا کہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک محنت کش کسان کے بیٹے کو ایوانِ بالا میں اپنی کمیونٹی کی آواز بلند کرنے کا موقع ملے گا۔پاکستانی کشمیری نژاد لارڈ شفق نے اپنے خطاب میں شیفیلڈ کی فیکٹریوں میں محنت کرنے والے اپنے والد محمد صدیق کی قربانیوں کا ذکر کیا، جنہوں نے ایک زمیندار خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود برطانیہ میں اسٹیل ملوں میں مزدوری کی۔ لارڈ شفق نے کہا کہ ان کے والد نے کچے مکانوں سے سفر شروع کیا اور پھر 1980 میں بے روزگاری کے دور میں خاندان نے مشکلات کا سامنا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے خاندان کے ساتھ برطانیہ آنے کے بعد 16 سال کی عمر میں یوتھ ٹریننگ اسکیم کے تحت اپنی پہلی ملازمت شروع کی، جہاں وہ ہفتے کے 40 گھنٹے کام کرنے کے بدلے محض 27.50 پاؤنڈز کماتے تھے۔

لارڈ شفق نے ہاؤس آف لارڈز کے عملے کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہنمائی کی اور ان کی محنت کے سفر کو تسلیم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوم اسکولنگ کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے بھی نمٹنے کی ضرورت ہے اور نوجوانوں کی تعلیم اور عوامی خدمت کے مشن کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے پُرعزم لہجے میں کہا کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم اور عوامی خدمت کے مشن کو جاری رکھیں گے، اور یہی مشن تھا جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔