16000 سے زائد پوائنٹس کی شدیدمندی ،تاریخ میں پہلی بار دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس 17نفسیاتی حدیں کھوبیٹھا
کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطی میں جاری جنگ کے باعث پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبارکا منفی دن رہا۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج پہلے کاروباری دن کا آغاز ہی 15 ہزار پوائنٹس کی کمی سے ہوا جس پر مارکیٹ کا کاروبار 45 منٹ کے لیے معطل رہا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج سال 2026 ء میں ایسی کریش ہوئی جس کی نظیر تاریخ میں اس سے قبل کبھی دیکھنے کو نہ ملی ،امریکا کاایران پر حملہ، پاک افغان جھڑپیں ، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کا مسلسل بڑھنا پاکستان سٹاک ایکسچینج سمیت دنیا بھر کی اسٹاک ٹریڈنگ کو تہس نہس کرگیا ،کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج کی مندی نے وہ ریکارڈ قائم کردیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، کے ایس ای 100انڈیکس کی ٹریڈنگ کھلتے ہی چند منٹوں میں 15 ہزار سے زائد پوائنٹس کی بدترین مندی رونما ہوئی اور تاریخ میں پہلی بار دوران ٹریڈنگ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 17نفسیاتی حدیں کھوبیٹھا ،بدترین مندی سے 85.50فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور سرمایہ کاروں کے 1 ہزار 745 ارب روپے ایک ہی روز میں ڈوب گئے۔ کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس 15ہزار 71 پوائنٹس اور ادھر کے ایس ای 30 انڈیکس پانچ فیصد سے زائد گراوٹ کا شکار ہوکر کریش ہوگئے جس کے بعد فورا ً اسٹاک ایکسچینج انتظامیہ حرکت میں آئی اور قوانین کے مطابق ٹریڈنگ کو ایک گھنٹے کیلئے روک دیا۔ پی ایس ایکس قوانین کے مطابق 9بجکر 22منٹ پر ایک گھنٹے کے لیے تجارتی سرگرمیوں کو معطل کیا گیا جو 10 بجکر 22 منٹ پر دوبارہ فعال ہوئی مگر بینچ مارک 100انڈیکس سنبھل نہ سکا اورمسلسل یکے بعد دیگرے اپنی سطحیں کھوتا رہا اور دوران ٹریڈنگ پہلی بار 16 ہزار سے زائد پوائنٹس مائنس کرگیا۔دوسری جانب دوران ٹریڈنگ کے ایس ای 30انڈیکس میں9فیصد یعنی 4ہزار 723پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ،اسٹاک ایکسچینج میں نئے سرمایہ کاروں نے گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حصص فروخت کرنے کو مسلسل ترجیح دی جس کے باعث آئل اینڈ گیس سیکٹر کے شیئرز کو سب سے زیادہ مار پڑی اور 100 انڈیکس ٹریڈنگ کا اختتام پر پہلی بار 16089.17پوائنٹس کی کمی سے 1لاکھ 51ہزار 973 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر ہوا۔اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس 4995.92 پوائنٹس کی کمی سے 46326.47 پوائنٹس، کے ایس ای آل شیئر انڈیکس 9239.97پوائنٹس کی کمی سے 91178.86پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 23154.95پوائنٹس کی کمی سے 212170.17پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری حجم گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز کی نسبت 51فیصدزائد رہا۔گزشتہ روز80کروڑ 95 لاکھ 50ہزار 101 حصص کے سودے ہوئے۔مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا جن میں 21 کمپنیوں کے بھائو میں اضافہ، 413 کمپنیوں کے داموں میں کمی اور 49 کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔مارکیٹ کریشن ہونے کی صورت میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا حجم 18ہزار 930 ارب روپے سے گر کر 17 ہزار 185 ارب روپے کی سطح پر آگیا۔پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر احمد چنائے نے بتایا کہ عالمی منظر نامے میں خطرناک تبدیلیوں اوربحری ترسیلات بند ہوجانے سے اسٹاک ایکسچینج کریش ہوگئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ دنوں میں عالمی حالات سنبھل جانے سے ہی سٹاک مارکیٹ میں ریکوری ممکن ہوسکے گی ورنہ گراوٹ کا تسلسل آئندہ سیشنز میں بھی دیکھا جائے گا۔دوسری جانب سٹاک ایکسپرٹ شہریار بٹ نے دنیا نیوز کو بتایا کہ 100 انڈیکس اپنی بلند ترین سطح 1 لاکھ 91 ہزار کے مقابلے میں اب تک 40 ہزار سے زائد پوائنٹس گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے جوسرمایہ کاروں کیلئے تاریخی دھچکے کے مترادف ہے۔