جب دباؤ بڑھتا ہے تو میرے پاس ٹیمیں آتی ہیں، 9 مئی پر معافی مانگنے کو کہا جاتا ہے: عمران خان

جب دباؤ بڑھتا ہے تو میرے پاس ٹیمیں آتی ہیں، 9 مئی پر معافی مانگنے کو کہا جاتا ہے: عمران خان

راولپنڈی : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں اپنے خاندان کے افراد سے ملاقات کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ان پر مسلسل 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور جب دباؤ بڑھتا ہے تو ان کے پاس "ٹیمیں بھیجی جاتی ہیں"۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ آج صرف ان کی دو بہنوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی جبکہ انہیں جیل کے باہر روک دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے اندر ملاقات کے دوران اپنے تحفظات اور سیاسی مؤقف واضح طور پر بیان کیے۔

  عمران خان کے اہم نکات (علیمہ خان کے ذریعے)
9 مئی کا دباؤ:"مجھ سے 9 مئی پر معافی مانگنے کو کہا جاتا ہے، جب انکار کرتا ہوں تو دباؤ بڑھا دیا جاتا ہے اور ٹیمیں بھیجی جاتی ہیں۔"
سی سی ٹی وی فوٹیج کا مطالبہ:

"میں نے کہا کہ 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائی جائیں، لیکن مجھ پر دباؤ ہے کہ میں یہ مطالبہ نہ کروں۔"
الزامات اور سازشیں:

"لندن پلان کے تحت 9 مئی کے واقعات ہوئے، 26ویں آئینی ترمیم ہوئی اور 8 فروری کے الیکشن میں کھلم کھلا دھاندلی کی گئی۔"
سیاسی نظام پر تنقید:

"انصاف کے ادارے کنٹرول ہو چکے ہیں، چیف الیکشن کمشنر غیر آئینی طریقے سے عہدے پر موجود ہے۔"
اسمبلی نتائج پر اعتراض:

"8 فروری کی شام کو عوامی انقلاب آیا، لیکن 9 فروری کو 17 سیٹوں والوں کو حکومت دی گئی۔"
  ملاقات کا پس منظر اور تنویر احمد کا کردار
علیمہ خان نے مزید بتایا کہ ایک شخص تنویر احمد، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ پی ٹی آئی کے ڈونر اور اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے ہیں، نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کی۔پہلی بار تنویر احمد سے ملاقات کروائی گئی، جب کہ علیمہ خان اور ان کی بہنیں بھی اس وقت جیل میں موجود تھیں۔تنویر احمد کے ذریعے عمران خان کو کہا گیا کہ 9 مئی پر معافی مانگیں۔عمران خان نے دوسری ملاقات سے انکار کیا، لیکن پھر بھی ریکویسٹ پر دوبارہ ملاقات کی گئی۔علیمہ خان کے مطابق:"بانی نے واضح کیا کہ وہ بطور پیٹرن ان چیف احتجاجی تحریک کو خود جیل سے لیڈ کریں گے اور اب وقت آ چکا ہے کہ ظلم کے نظام کے خلاف عوام باہر نکلیں۔"
  عظمیٰ خان کا بیان
علیمہ خان کے ہمراہ موجود دوسری بہن عظمیٰ خان نے بھی تنویر احمد سے متعلق بتایا کہ وہ صرف ایک بار ملے، دوسری بار بھی آنا چاہا لیکن بانی نے ملاقات سے منع کر دیا۔

  نتیجہ
اڈیالہ جیل سے عمران خان کی طرف سے دیے گئے اس تازہ مؤقف سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ وہ سیاسی مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور 9 مئی کے واقعات سے متعلق کوئی معذرت یا مفاہمت کرنے کو تیار نہیں۔ وہ جیل میں رہتے ہوئے بھی اپنی جماعت کی قیادت کرنے اور احتجاجی تحریک کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں۔