پیرس کے مشہور گریون میوزیم سے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا مومی مجسمہ چوری کر لیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تین افراد—دو خواتین اور ایک مرد—سیاحوں کا روپ دھار کر میوزیم میں داخل ہوئے اور بعد ازاں کپڑے بدل کر خود کو مینٹیننس اسٹاف ظاہر کیا۔
انہوں نے 40 ہزار یورو مالیت کا مجسمہ چرا کر ایمرجنسی ایگزٹ کے ذریعے فرار اختیار کی۔پولیس ذرائع کے مطابق چوری کی یہ غیر معمولی واردات ماحولیاتی تنظیم گرین پیس کے کارکنان نے کی، جنہوں نے یوکرین پر روسی حملے کے بعد فرانس اور روس کے درمیان اقتصادی تعلقات کے خلاف احتجاجاً مجسمہ چرایا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے میکرون کا مومی مجسمہ روسی سفارت خانے کے سامنے چند منٹ کے لیے رکھ دیا، جہاں انہوں نے روس کا پرچم لہرایا اور ’کاروبار ہی کاروبار‘ جیسے نعرے درج پلے کارڈز اٹھائے۔ ساتھ ہی احتجاجاً جعلی کرنسی نوٹ بھی فضا میں اُڑائے گئے۔گرین پیس فرانس کے سربراہ جین فرانکوئس جولیارڈ نے کہا کہ فرانس دوہرا معیار اپنا رہا ہے۔ ایک جانب یوکرین کی حمایت کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب روس کے ساتھ توانائی، کھاد اور جوہری معاہدوں میں شراکت جاری رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر میکرون کو ان کی ’خصوصی ذمہ داری‘ کے باعث نشانہ بنایا گیا ہے اور مطالبہ کیا کہ وہ روس سے تجارتی تعلقات ختم کرنے والے یورپی رہنماؤں میں پہل کریں۔پولیس کے مطابق گرین پیس کارکنان نے وعدہ کیا ہے کہ مجسمے کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور جلد واپس کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فرانس یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے یوکرین کی بھرپور سفارتی حمایت کرتا آ رہا ہے۔