تہران: چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے، جہاں اعلیٰ ایرانی سول و عسکری حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تہران ایئرپورٹ پر ایرانی وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف بھی نائب وزیراعظم، وفاقی کابینہ کے اہم ارکان اور اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ایران روانہ ہو چکے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد بھی پہلے ہی تہران پہنچ چکا ہے، جس میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ تہران میں ادا کی جائے گی، جبکہ اس مقصد کے لیے ان کا جسدِ خاکی تہران کے ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں مختلف ممالک سے آنے والے وفود، مذہبی شخصیات اور اعلیٰ حکومتی نمائندے خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد جسدِ خاکی کو تہران سے قم، پھر نجف اور کربلا منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد دوبارہ ایران لا کر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
آخری رسومات میں دنیا بھر سے ایک سو سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے، جبکہ لاکھوں افراد کی آمد کے پیش نظر غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔پاکستانی قیادت کی تہران آمد کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات، باہمی احترام اور مشکل وقت میں یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس موقع پر پاکستانی وفد ایرانی قیادت سے ملاقاتیں بھی کرے گا، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو تہران میں ہونے والے حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ ایرانی شخصیات جاں بحق ہو گئی تھیں، جس کے بعد ایران بھر میں سات روزہ سوگ اور آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔