لاہور سکول حادثے کے بعد بڑا ایکشن، 760 غیر قانونی اکیڈمیاں بند کرنے کا فیصلہ

لاہور سکول حادثے کے بعد بڑا ایکشن، 760 غیر قانونی اکیڈمیاں بند کرنے کا فیصلہ

لاہور: صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے باغبانپورہ میں سکول کی زیرِ تعمیر عمارت کی چھت گرنے کے مقام کا دورہ کیا اور کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ تعمیراتی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے باعث پیش آیا۔

انہوں نے بتایا کہ سکول انتظامیہ نئی عمارت میں توسیعی کام کر رہی تھی، تاہم لینٹر کو مقررہ 15 روز کی مدت مکمل ہونے سے قبل صرف 5 روز بعد کھول دیا گیا، جس کے نتیجے میں چھت گر گئی۔ حادثے میں ایک بچے کی جان گئی جبکہ متعدد راہگیر زخمی ہوئے۔وزیر تعلیم کے مطابق محکمہ تعلیم کی ٹیم نے 15 روز قبل سکول کا دورہ کر کے انتظامیہ کو واضح وارننگ دی تھی، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سکول انتظامیہ نے عمارت کی توسیع سے متعلق محکمہ تعلیم کو بھی آگاہ نہیں کیا تھا۔رانا سکندر حیات نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے خطرناک قرار دی جانے والی عمارت کو مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے، جبکہ غفلت برتنے پر دو ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران (ڈی ڈی ای اوز) اور دو اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران (اے ای اوز) کو معطل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ لاہور میں غیر قانونی طور پر چلنے والی 760 اکیڈمیوں کو بند کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبے بھر کے 13 ہزار سکولوں کو عمارتوں کا فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ستمبر سے قائم ہونے والے ہر نئے سکول کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔وزیر تعلیم نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو غیر رجسٹرڈ نجی سکولوں میں داخل نہ کرائیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 30 جون کو سمر کیمپ ختم ہونے کے باوجود متعلقہ سکول میں سرگرمیاں کیوں جاری تھیں، اس حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔