رفیع صحرائی
وزیرِ اعظم شہباز شریف مہنگائی میں کمی کے جتنے بھی دعوے کرتے رہیں یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ اگر وزیرِ اعظم کے دعوے کو سچ مان لیا جائے تو اراکین پارلیمنٹ اور وزراء و مشیران کی تنخواہوں میں 188 فیصد کے اضافے کا کیا جواز بنتا ہے۔ کیا حکومتی حلقے اس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟
یہ حقیقت ہے کہ مہنگا?ی نے سب سے زیادہ سرکاری ملازمین کو متاثر کیا ہے۔ یہ طبقہ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ پہلے تو ایسا ہوتا تھا کہ سرکاری ملازمین کا سبزی، کریانے اور کپڑے کی دکانوں پر کھاتہ لگا ہوتا تھا۔ پورا مہینہ ادھار سودا لے کر گزارا کیا جاتا تھا اور تنخواہ آنے پر ادھار چکانے کے بعد جو معمولی رقم بچ جاتی وہ گھر کے دیگر اخراجات کے کام آ جاتی مگر روز افزوں بلندی کی ن?ی پروازوں کو چھوتی ہو?ی مہنگا?ی نے سرکاری ملازمین سے ادھار کی سہولت بھی چھین لی ہے۔ دکان دار اب اس لیے ادھار دینے سے پہلو تہی کرتے ہیں کہ روز بروز بڑھتی مہنگائی ان کے اصل زر میں بھی کمی کر دیتی ہے۔ آج جو چیز ایک ہزار روپے میں ملتی ہے ممکن ہے ایک ماہ بعد اس کی قیمت بارہ تیرہ سو روپے ہوچکی ہو لہٰذا دکان دار اب ادھار مال دینے کا رسک نہیں لیتے کہ ایک تو رقم دیر سے ملتی ہے اوپر سے اس کی ویلیو دس پندرہ فیصد کم ہو چکی ہوتی ہے۔
سرکاری ملازمین کو جو ہا?س رینٹ ملتا ہے وہ 2008 کے پے سکیلز کے تحت ہے۔ نان گزیٹڈ سرکاری ملازمین کی شرح قریباً 80 فیصد بنتی ہے۔ ان کے ہا?س رینٹ کی رقم کو دیکھا جا?ے تو یہ آپ کو سنگین مذاق نظر آ?ے گا۔ مہنگا?ی کے اس دور میں اکثر ملازمین دو ہزار سے چار ہزار روپے کے درمیان ہا?س رینٹ وصول کر رہے ہیں جبکہ بڑے شہروں میں ایک کمرے کا کرایہ چھ سات ہزار روپے سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح میڈیکل الا?نس بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ ملازمین اس رقم سے بمشکل پرا?یویٹ ڈاکٹر کی ایک وزٹ کی فیس ادا کر پاتے ہیں۔ اس پرمستزاد یہ کہ حکومت خود آ?ے روز فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دے دیتی ہے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ بے چارے ملازمین دعا?یں کرتے ہیں کہ بیماری کی وجہ سے آنے والی موت کی بجا?ے ڈا?ریکٹ موت آ جا?ے تو زیادہ بہتر ہے۔
صحنِ غربت میں قضا دیر سے مت آیا کر
خرچ تدفین کا لگ جاتا ہے بیماری پر
ذاتی کام کرنے والے، تجارت پیشہ لوگ اوردکان دار حضرات مہنگا?ی کے تناسب سے اپنی اشیاء یا خدمات کے معاوضہ میں اضافہ کر لیتے ہیں حتیٰ کہ روزانہ مزدوری کرنے والے، ریڑھی بان اور رکشہ والے بھی مہنگا?ی کے حساب سے اپنے معاوضہ یا مزدوری میں خود اضافہ کر لیتے ہیں۔ صرف سرکاری ملازمین ہی ایسا طبقہ ہے جو اپنی تنخواہ بڑھوانے کے لیے حکومتی فیصلے کا محتاج ہوتا ہے۔
موجودہ تنخواہوں میں سرکاری ملازمین کے لیے ان کا اپنا اور خاندان کا جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا ہی خاصا دشوار ہے۔ بچوں کی فیسیں، کتابیں، یونیفارمز، رکشے کا کرایہ مینیج کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ خاندان میں خوشی غمی اور بیاہ شادی کے مواقع کو ٹالا بھی نہیں جا سکتا اور شرکت کرنے کی سکت بھی نہیں ہوتی۔ عید بقر عید اور دیگر تہوار اضافی اخراجات کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اصل پریشانی اس وقت درپیش ہوتی ہے جب سرکاری ملازمین اپنے بچوں کی شادی کرتے ہیں۔ وہ ادھار پکڑ کر شادی تو کر لیتے ہیں مگر پھر ان کی ساری عمر قرض اتارتے گزر جاتی ہے۔ باقی اولاد خصوصاً ان کی بیٹیاں والدین کی دہلیز پر بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ حالات اجازت نہیں دیتے کہ ان کی شادی کا سوچا جا?ے۔
سرکاری ملازمین کی حالتِ زار پر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے دور میں خصوصی توجہ دیتے ہو?ے ان کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا تھا۔ مہنگا?ی کی شرح میں تیزی سے اضافہ 2018 میں شروع ہوا تھا۔ مگر پی ٹی آ?ی کی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر اضافہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ حتیٰ کہ سال 2020 میں تو ایک روپے کا بھی اضافہ نہ کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ حکومتوں کے دی?ے گئے ریلیف کی افادیت بھی ختم ہو گئی اور سرکاری ملازمین فٹ پاتھ پر پہنچ گئے۔
پی ڈی ایم کی سولہ ماہ کی حکومت نے مہنگا?ی کو تو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا مگر اس تناسب سے سرکاری ملازمین کو ریلیف نہ دے سکی۔ مرکز میں 35 فیصد تنخواہ اور 17.5 فیصد پنشن میں اضافہ کا اعلان ہوا تو جناب محسن نقوی کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھا?ی۔ ان کے خلاف تاریخ کا شدیدترین احتجاج ہوا تو انہوں نے گھٹنے ٹیکے لیکن انہوں نے حتی المقدور دودھ میں مینگنیاں ضرور ڈالیں۔ مرکز میں نگران حکومت نے عوام کا جینا دشوار کرنے کی دانستہ کوششیں کیں۔ اس نے اپنی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے ل?ے تیل، گیس، ڈالر اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو امرت دھارا سمجھ کر استعمال کیا۔ نتیجے کے طور پر سرکاری ملازمین ڈیفالٹ کر گئے۔ یہی حال پی ڈی ایم کی حکومت نے کیا اور اب پاکستان مسلم لیگ ن کی سرکار نے اسی تسلسل کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ حکومتی پالیسیوں نے سرکاری ملازمین کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں ہوش ربا اضافہ کر کے حکومت نے سرکاری ملازمین کے زخموں پر نمک پاشی کر دی ہے۔
سرکاری پنشنرز کی حالتِ زار بھی دگرگوں ہے۔ اپنی زندگی کا سنہرا دور سرکاری ملازمت کی نذر کرنے والے پنشنرز مہنگا?ی کی وجہ سے سخت مشکل میں ہیں۔ وہ عملی طور پر بڑے خاندانوں کے سربراہ بن چکے ہوتے ہیں۔ اسی حساب سے ان کے اخراجات بھی بہت بڑھ جاتے ہیں۔ مہنگا?ی نے پنشنرز کو بہت متاثر کیا ہے۔ یہ پنشنرز کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ سالانہ بجٹ میں حاضر سروس ملازمین کے مقابلے میں ان کی پنشن میں نصف تناسب سے اضافہ کیا جاتا ہے۔حالات کا تقاضا ہے کہ ان کی پنشن میں سوفیصد اضافہ کیا جا?ے۔