وزیراعلیٰ پنجاب نے والٹن روڈ کی تکمیل کے لیے 7 فروری کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے، کیونکہ اس منصوبے کے متعدد حصے مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔
منصوبے میں سروس لینز اور پی ایچ اے کی جانب سے پلانٹیشن کا کام ابھی مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ علاوہ ازیں، پی ایچ اے نے جو پلانٹرز نصب کیے ہیں، وہ خالی اور غیر معیاری ہیں، جس کی وجہ سے منصوبے کی خوبصورتی متاثر ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق، سی بی ڈی (سیف سٹی بزنس ڈسٹرکٹ) کی جانب سے کی جانے والی ہارٹی کلچر ورک اعلیٰ معیار کی ہے، لیکن پی ایچ اے نے اپنی حصہ داری ڈال کر اس معیار کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، والٹن روڈ پر موجود ڈسپوزل اسٹیشنز بھی نامکمل ہیں، اور ان کی فنشنگ نہیں کی جا سکی۔
اس کے ساتھ ساتھ، والٹن روڈ پر پیڈسٹرین برجز بھی تاحال مکمل نہیں ہو سکے، جس کے باعث سڑک پر چلنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے 7 فروری کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے تاکہ منصوبہ مکمل ہو سکے اور عوام کو سہولت مل سکے۔