منصوبے روک کر فنڈز غریب لوگوں کو تحفظ دینے پر خرچ کئے جائیں، سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام یقینی ہوگا، ہماری توجہ کمزور اور مفلوک الحال طبقات کو تحفظ دینے پر مرکوز ہے، مہنگائی پر قابو پانا ترجیحات میں شامل ہے
خطے میں جنگ کا دوسرا مہینہ شروع ہوگیا‘پاکستان جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ، فیلڈمارشل اور وزیرخارجہ مسلسل متحرک ہیں، مشکل صورتحال میں غریب کو تحفظ دینا اور اشرافیہ کو قربانی کا مظاہرہ کرنا ہے
کفایت شعاری مہم کے تحت گزشتہ تین ہفتوں میں وفاق نے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب کا کٹ لگایا‘کابینہ ارکان نے دوماہ کی تنخواہیں رضا کارانہ طور پر سرنڈر کیں، پارلیمنٹیرینز نے تیل کی بچت کو یقینی بنایا:اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب
اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان خطے میں جاری جنگ کے شعلے ٹھنڈا کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ۔ فیلڈمارشل اور وزیرخارجہ اس سلسلے میں مسلسل متحرک ہیں ۔ جنگ میں شہادتوں پر افسوس ہے ‘ جنگی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے وزرائے اعلیٰ نے تعاون کی یقین دہانی کرائی، مشکل صورتحال میں غریب کو تحفظ دینا اور اشرافیہ کو قربانی کا مظاہرہ کرنا ہے۔خطے میں جنگ کا دوسرا مہینہ شروع ہو گیا ہے، شہادتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، شعلے ٹھنڈے کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، وفاق اور صوبے جو ترقیاتی منصوبے روک سکتے ہیں، روک دیں‘ فنڈز بچا کر غریب لوگوں کو تحفظ دینے پر خرچ کئے جائیں، سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام یقینی ہوگا، ہماری توجہ کمزور اور مفلوک الحال طبقات کو تحفظ دیے پر مرکوز ہے، مہنگائی پر قابو پانا ترجیحات میں شامل ہے‘کفائت شعاری مہم کے تحت گزشتہ تین ہفتوں میں وفاق نے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کا کٹ لگایا۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت انتہائی اہم اجلاس ہوا جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی کابینہ کے ارکان شریک ہیں۔ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جنگ رکوانے کے لیے کوشش کر رہا ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے دوست ملک ایران کے وزیر خارجہ اور دیگر رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈپٹی اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل نے بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور پاکستان نے جنگ کے دوران انسانی اور اقتصادی نقصان کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی وجہ سے ملک کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن غریب عوام، گڈز ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کو تحفظ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے آغاز سے قبل چاروں صوبوں کے وزرائے خارجہ سے مشاورت کی، اور اجتماعی و بھرپور کاوشوں کے ذریعے چیلنجز کا جائزہ لیا اور مناسب اقدامات اٹھائے۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ خطے میں ضرور امن قائم ہوگا ۔ معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، چیلنجز کے باوجود پاکستانی پرچم برادر 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کا انتظام کیا ہے، ۔انہوں نے مزید کہا کہ کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت ،بلاول بھٹو ،وزرائے اعلیٰ اور پارلیمنٹیرینز کے کردار کو سراہتے ہیں، کابینہ ارکان نے دوماہ کی تنخواہیں رضا کارانہ طور پر سرنڈر کیں، پارلیمنٹیرینز نے تیل کی بچت کو یقینی بنایا، گزشتہ تین ہفتوں میں وفاق نے پی ایس ڈی پی میں سو ارب روپے کا کٹ لگایااور129 ارب روپے دیے ۔