آج کا ادبی منظر نامہ

 ندیم ملک 
جب سے کتاب کی جگہ سوشل میڈیا نے سنبھالی ہے، ادبی منظرنامہ حیرت انگیز طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ ہر طرف ٹنوں اور منوں کے حساب سے شاعری تخلیق ہو رہی ہے۔ ہمارے بزرگ شاعری کو الہام سے تعبیر کرتے تھے، مگر آج جدید دور میں شاعری کا سفر کلاسیکی اور نیم کلاسیکی اصناف سے نکل کر جدیدیت کی سمت گامزن ہے
اب تو سوشل میڈیا پر مسلسل یہ بات سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے کہ مقالے بھی چند ہزار روپے کے عوض لکھ کر دیے جاتے ہیں۔ گویا وہ علمی و تحقیقی محنت، جس کے نتیجے میں ایک طالب علم ڈگری حاصل کرتا ہے، اب مصنوعی ذہانت اور تجارتی خدمات کے ذریعے آسانی سے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کیوں وجود میں آئی یا جدید ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں میں جگہ کیوں بنائی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سہولت نے ہماری تخلیقی صلاحیتوں، علمی دیانت اور فکری محنت کی جگہ لے لی ہے؟ شاعری الفاظ کو خوب صورت ترتیب دینے کا نام نہیں، یہ احساس، مشاہدے، تجربے اور داخلی کرب کا اظہار ہے۔ اسی طرح تحقیق محض صفحات بھرنے کا نام نہیں، بلکہ برسوں کے مطالعے، جستجو اور تنقیدی شعور کا نتیجہ ہوتی ہے
مصنوعی ذہانت ایک معاون ضرور ہو سکتی ہے، لیکن اگر انسان اپنی سوچنے، سمجھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت ہی اس کے سپرد کر دے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم کس کا ہے، تخلیق کس کی ہے اور محنت کس نے کی ہے؟
واقعی، یہ عجیب دور ہے؛ جہاں الفاظ کی فراوانی ہے مگر خیال کی تلاش باقی ہے، شاعروں کی کثرت ہے مگر صاحبِ اسلوب کی پہچان مشکل ہوتی جا رہی ہے، اور معلومات کی بہتات کے باوجود تحقیق کی اصالت ایک  المناک سوال بن چکی ہے
ولی دکنی، میر، غالب، سودا، ذوق، داغ، مصحفی، مومن، حسرت موہانی، جگر مرادآبادی، اصغر گونڈوی اور علامہ اقبال نے اردو شاعری کو نئی جہتیں عطا کیں۔ کلاسیکی دور کے بعد جوش ملیح آبادی، شکیب جلالی، احمد ندیم قاسمی، ظفر اقبال، قتیل شفائی، مصطفیٰ زیدی، احمد مشتاق، ناصر کاظمی، محسن نقوی اور حبیب جالب نے شاعری میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ جدید شعرا میں عباس تابش، رضی اختر شوق، صادق جمیل، ندیم بھابھہ، واجد امیر، فرحت عباس شاہ اور اظہر فراغ نے عمدہ شاعری تخلیق کی۔ تاہم، موجودہ دور اخبارات، رسائل اور میگزین سے نکل کر ٹک ٹاک اور فیس بک تک پہنچ چکا ہے۔ اسی لیے علی زریون اور تہذیب حافی نوجوان نسل میں مقبول ہیں، کیونکہ آج کا نوجوان عموماً سادہ، رواں اور فوری طور پر متاثر کرنے والی شاعری سننا پسند کرتا ہے۔ منتظمینِ مشاعرہ بھی ان شعرا کی شرکت کے بغیر محفل کو ناکام تصور کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مشاعرے بھی سیاسی منظرنامے کی پیروی کرنے لگے ہیں، جہاں عمران خان کے بغیر موجودہ حکومت کو فلاپ قرار دیا جاتا ہے، وہیں مقبول شعرا کے بغیر مشاعرے کو ادھورا سمجھا جاتا ہے
یونیورسٹیوں میں ایسے ایسے اشعار سننے کو مل رہے ہیں کہ خدا پناہ! مثال کے طور پر

رقیبوں کی ترقی ہوگئی ہے ہمارے ساتھ یکی ہوگئی ہے

میر تقی میر کا شعر ہے:

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

علی زریون کا شعر

کس نے جینز کری ممنوع
 پہنو  اچھی لگتی ہو

تہذیب حافی کے دو اشعار ملاحظہ کریں:

تجھ کو بتلاتا مگر شرم بہت آتی ہے
تیری تصویر سے جو کام لیا جاتا ہے

میرا چھوڑو، میں نہیں تھکتا میرا کام یہی ہے
 لیکن تم نے اتنے پیار کا کرنا کیا ہوتا ہے

میر اور ان کے اشعار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پہلے غزل کے معنی عورتوں سے باتیں کرنے سے منسوب تھے، اقبال نے غزل کو نئے فکری معانی عطا کیے۔ کلاسیکی اور نیم کلاسیکی شاعری کے حسین امتزاج سے جدید شاعری اور شعرا نے اپنا الگ مقام بنایا، مگر شاعری کے نام پر فحش بیانی کرنا انتہائی شرمناک بات ہے
ساغر صدیقی نے کیا خوب کہا تھا
زندگی جبر مسلسل کی طرح کافی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں