دمشق: شامی سرکاری میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ نے بدھ کے روز دمشق اور وسطی شام میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں دفاعی تحقیقاتی مراکز اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ادارے سانا کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے دمشق کے بارزہ علاقے میں سائنسی تحقیقاتی مرکز کے قریب بمباری کی، اور حماہ شہر کے قریب بھی فضائی حملے کیے گئے۔ تاہم، ان حملوں میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر فراہم نہیں کی گئی۔اسرائیلی فوج کے مطابق، اس نے دمشق، حماہ اور T4 فوجی اڈے پر حملے کیے، تاکہ ان مقامات پر موجود "باقی فوجی صلاحیتوں" کو تباہ کیا جا سکے۔ اس سے قبل بھی اسرائیل نے گزشتہ ماہ T4 فوجی اڈے پر دو بار حملے کیے تھے، جن میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم "سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس" کے مطابق، بدھ کے حملے میں دمشق کا تحقیقاتی مرکز، T4 فوجی ہوائی اڈہ، حماہ میں فوجی اڈے، طیارے اور رن وے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
اسرائیل نے بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد شامی سرحد پر اقوام متحدہ کے زیر نگرانی علاقے میں اپنی فوجیں تعینات کر دی ہیں اور جنوبی شام کی مکمل غیر عسکریت پسندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران، اسرائیلی فوج نے حالیہ مہینوں میں شامی حدود میں متعدد حملے اور دراندازیاں کی ہیں، جس پر شامی حکومت نے شدید احتجاج کیا ہے۔گزشتہ ماہ، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے اسرائیل کے شام پر حملوں کو "غیر ضروری" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ شام کی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر ملک کے استحکام کو تباہ کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا ہے۔