مارکیٹ میں کئی اشیائے ضروریہ سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر دستیاب ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آلو کی سرکاری قیمت 30 روپے فی کلو ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں یہ 70 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔اسی طرح، بینگن کی سرکاری قیمت 90 روپے فی کلو ہے، مگر مارکیٹ میں 160 روپے فی کلو میں بک رہا ہے۔بھنڈی کی سرکاری قیمت 190 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں یہ 250 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔
ٹماٹر کی سرکاری قیمت 175 روپے فی کلو ہے، مگر مارکیٹ میں 230 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔کریلے کی سرکاری قیمت 120 روپے فی کلو ہے، اور مارکیٹ میں 180 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
پھلوں میں بھی سرکاری نرخ اور مارکیٹ ریٹ میں واضح فرق پایا جا رہا ہے۔آم چونسہ لیٹ کی سرکاری قیمت 305 روپے فی کلو ہے، جبکہ بازار میں یہ 420 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔آڑو اسپیشل 305 روپے فی کلو کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 410 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔سیب کی سرکاری قیمت 250 روپے فی کلو ہے، اور مارکیٹ میں اس کی قیمت 390 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔کیلا درجہ اول کی سرکاری قیمت 200 روپے فی درجن کے مقابلے میں مارکیٹ میں 250 روپے فی درجن فروخت ہو رہا ہے۔
ناشپاتی کی سرکاری قیمت 290 روپے فی کلو ہے، جبکہ مارکیٹ میں 350 روپے فی کلو میں بک رہا ہے۔گرمے کی سرکاری قیمت 185 روپے فی کلو کے مقابلے میں، مارکیٹ میں یہ 320 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ سرکاری نرخ نامہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور غیر قانونی طور پر زائد قیمتیں وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔