غلام مصطفیٰ مغل
وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کی طرف سے یہ بیان آیا اگر مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنا ہے تو حالات اور وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کا قیام بے حد ضروری ہے پہلی بات تو یہ ہے کے پی کے وزیراعلی کی طرف سے کالا باغ ڈیم کے حق میں بیان آنا کسی معجزے سے کم نہیں راقم الحروف کے ناقص خیال کے مطابق علی امین گنڈا پور نے یہ بیان بہت سوچ سمجھ کر دیا ہوگا اور ان کو اس بات کا بھی پتہ ھے کے پی کے میں بیٹھ کر کالا باغ ڈیم کے حق میں بیان دینا اپنی سیاست کو داؤ پر لگانا ہے کیونکہ کالا باغ ڈیم کے خلاف سب سے پہلے آواز کے بی کے سے ایک مخصوص سیاسی جماعت نے لگائی تھی جو کہ خود کو پختونوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی تھی یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ اس جماعت کو مخالفت کے عوض بھارت ہر سال اربوں کی فنڈنگ کرتا ھے۔ اس سیاسی جماعت نے کے پی کے کی عوام کو اس طریقے سے گمراہ کر رکھا تھا کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو کے پی کے کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت سے لے کر اج تک کسی بھی فوجی یا جمہوری حکومت نے کے بی اے کی عوام کو یہ بات سمجھانے کی کوشش ہی نہیں کی کہ کالا باغ ڈیم ایک قومی منصوبہ ہے علاقائی یا صوبائی منصوبہ نہیں ہے نہ ہی اس سے کسی خاص صوبے کے عوام کو نقصان اور کسی مخصوص حصے کو فائدہ پہنچے گا بلکہ یہ بلکہ یہ ایک ایسا قومی منصوبہ ہے جسے پورے ملک کے عوام کو فائدہ ہوگا بڑی حد تک توانائی کی ضروریات پوری ہوگی اور شعبہ زراعت کو بھی فائدہ ہوگا سابق چیئرمین واپڈاہ شمس الملک نے واضح طور پر ان پارٹیوں کو چیلنج کیا تھا جو کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہی تھی وہ مذاکرات کی ٹیبل پر ا کر مجھے مطمئن کر دیں یا میں ان کومطمئن کروں گا کالا باغ ڈیم فنی لحاظ سے پاکستان کے لیے کتنا فائدہ مند اور مفید ہے اور اس کے بننے سے کسی خاص صوبے کا نقصان نہیں ہو گا اس بات کو چار دہائیاں گزر چکی ہیں اور اج تک اے این پی۔ پی پی پی سمیت کسی بھی کالا باغ ڈیم کی مخالف کرنے والی کسی ایک بھی جماعت اس چیلنج کو قبول نہیں کر رہی اصل مسئلہ کالا باغ ڈیم کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی طرح پاکستان ترقی نہ کر سکے کیونکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے اگر ایک طرف سستی بجلی پیدا ہوگی تو دوسری طرف ذراعت کے لیے بھی وافر مقدار میں پانی مہیا ہوگا اس کے علاوہ اگر سستی بجلی پیدا ہوگی تو اس سے صنعتی طور پر ملک ترقی کرے گا روزگار کے ذرائع بڑھیں گے ملکی امدن میں اضافہ ہوگا۔ موجودہ حکومت یعنی میاں شہباز شریف نے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا فیصلہ کیا تو پیپلز پارٹی اس کی مخالفت پر اتر آئی مصنوعی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی مسلم لیگ نون کی حکومت کو یہ منصوبہ مجبور واپس لینا پڑا ذوالفقار علی بھٹو نے ون یونٹ توڑ کر قوم کو اس طریقے سے صوبائی عصبیت میں مبتلا کر دیا کہ جب بھی کوئی حکومت ملک کی ترقی کے لیے کسی منصوبے کا اعلان کرتی ہے تو چند مخصوص پارٹیاں اس وجہ سے مخالفت پر اتراتی ہیں کہ اگر یہ منصوبہ ملک کے لیے فائدہ مند ہو گیا تو ہماری صوبائی سیاست کی ساخت کو زبردست نقصان پہنچے گا علی امین گنڈا پور نے اگر کالا بال ڈیم کی تعمیر کی حمایت کا اعلان کیا ہے تو پی ٹی آئی کو اس کی حمایت کرنی چاہیے تھی پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکبر راجہ کی طرف سے بیان ایا کہ کالا باغ ڈیم علی امین گنڈا پور ذاتی رائے ہو سکتی ہے مگر پارٹی اس وجہ سے اس
کی حمایت نہیں کر سکتی کہ اس سے تمام پارٹیوں کا متفق ہونا ضروری ہے سلمان اکرم راجہ کے بیان سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جب ملک اور قوم کو لوٹنے ہوتا ہے تو سب پارٹیاں متفق ہو جاتی ہیں مگر ملک اور قوم کی بہتری کے لیے اج تک سیاسی پارٹیوں متفق نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوتی دکھائی دیتی ہیں ایک بات ضرور ہے کہ جب قومی اسمبلی سینٹ یا ممبران اسمبلی کی تنخواہوں۔مراعات میں اضافے کی تجویز اتی ہے تو تمام سیاسی۔ مذہبی پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو جاتی ہیں۔ جب بھی کبھی ملک اور عوام کے فائدے کے لیے کوئی منصوبہ سامنے آیا ہے تو چند پارٹیاں ایک طرف اور چند پارٹیاں ایک طرف ہو جاتی ہیں اور وہ منصوبہ خاک میں مل جاتا ہے ملک کی 75 سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوم کی بہتری اور ملک کی ترقی کے لیے تو سیاسی پارٹیاں یکجا نہیں ہو سکتی مگر قوم کو ڈبونے کے لیے اور لوٹنے کے لیے تمام پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر ہر وقت متفق رہتی ہیں۔بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے سیلابی ریلوں نے ملک کے بہت سے حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس وقت جماعت اسلامی کے شعبہ الخدمت فاؤنڈیشن کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون۔ پی پی پی۔پی ٹی ائی اپ کو کسی جگہ بھی سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے کسی ایک پلیٹ فارم پر بھی متحرک نظر نہیں آ رہی ہوں گی لیکن ہر الیکشن میں عوام کی ہمدردی کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔