سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ 29 ستمبر کو مدینہ منورہ کے طیبہ بجلی تقسیم کار اسٹیشن پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر عارضی طور پر غیر فعال ہوگیا، تاہم مجموعی بجلی کا نظام اور قومی پاور گرڈ متاثر نہیں ہوا۔
یہ اسٹیشن مسجد نبوی ﷺ کو بھی بجلی فراہم کرتا ہے۔اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق تحقیقات، دستیاب شواہد اور حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے کے تجزیے سے حوثی ملیشیا کے حملے میں ملوث ہونے کا تعین ہوا۔ تاہم حوثی ذرائع نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔سعودی ترجمان نے کہا کہ شہری تنصیب، جو مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرتی ہے، کو نشانہ بنانا انتہائی حساس معاملہ ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حرمین شریفین اور زائرین کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔دوسری جانب سعودی اتحادی افواج نے خمیس مشیط اور جازان کی جانب آنے والے 4 ڈرونز اور 2 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اتحادی ترجمان کے مطابق ایک میزائل اور چاروں ڈرونز خمیس مشیط کے قریب جبکہ دوسرا میزائل جازان کی جانب روکا گیا۔