وقار احمدباجوہ
وادی کشمیر دنیا بھراپنے حسن وجمال کی نظیر نہیں رکھتی۔ لیکن کئی دہائیوں سے بار بار اس جنت نظیروادی کے حسین چہرے کو لہو لہان کیا گیا اور اب بھی کیا جارہا ہے۔ لیکن ہرپرآشوب دورمیں ایک مجاہد کی شہادت نے بیسیوں کشمیریوں کے اندر شوق شہادت پیداکیا اور یہ شہادتیں آزادی کی مشعل کوروشن کرتی چلی گئیں۔ماضی میں ایک ایمان افروز واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈوگرہ راج میں مسلمانوں کیخلاف بدترین ظلم وستم ا پنی انتہا پر تھے اِن مظالم کیخلاف ایک عوامی اجتماع میں عبدالقدیر نامی نوجوان کو مہاراجہ کیخلاف بات کرنے پر حراست میں لیا گیا اور اِس کیخلاف ایف آئی آر کی سماعت سنٹرل جیل سری نگر میں کی جانی تھی جس کو سننے کیلئے ہزاروں لوگ اکٹھے ہوئے ، نمازظہر کا وقت آیا تو ایک نوجوان نے اذان دیناشروع کی ہی تھی کہ ڈوگرہ سپاہیوں نے اسے شہیدکردیا اْس کی شہادت کے بعد ایک دوسرامقامی نوجوان آگے آیا لیکن اسے بھی شہید کر دیا گیا اور پھر ایک ایک کر کے بائیس نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا لیکن مقامی کشمیریوں کے شوق شہادت ماند نہ پڑاکیونکہ سچے مسلمان جانتے تھے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے انہیں ہے حکم اذاں لا اِلہ الا اللہ۔ یہ واقعہ13 جولائی 1931 ء کوپیش آیا تھا لیکن اس کی حلاوت اورحرارت آج بھی تروتازہ اوربرقرار ہے اور ہر سال 13 جولائی کو ان اسلام اور آزادی کے پروانوں کی یادیں تازہ کی جاتی ہیں۔
ریاست کشمیرمیں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی لہٰذاء اسے قیام پاکستان کے وقت یقینی طورپر پاکستان کا حصہ بننا تھا لیکن متعصب ہندو راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا اس سے قبل انگریزسرکار کی بدنیتی بھی بے نقاب ہوچکی تھی اور گورداسپور بھارت کو دے کر فتنہ انگیزی کی بنیاد رکھ دی گئی تھی جس کی شرانگیزی ابھی تک بر صغیر کے امن کی درپے ہے۔ کشمیریوں پر بھارت کی طرف سے ابھی بھی وہی انسانیت سوز مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔آج بھی کشمیر کی 97 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ ان کی ایک بہت بڑی تعداد ہجرت کر کے پاکستان اور آزاد کشمیرمیں آباد ہو چکی ہے لیکن بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود یہ اکثریت برقرار ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت انتہائی وسیع پیمانے پر کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے صرف 2008ء میں اٹھارہ دیہات میں سے ایک ہزار سے زیادہ کشمیریوں کی نا معلوم قبریں دریافت ہوئی ہیں یہ تو ایک واقعہ ہے ورنہ کشمیری آئے دن اِن ہی حالات سے گزرتے ہیں اورآج بھی مودی سرکار طرح طرح کے ظالمانہ قوانین اس وادی میں نافذ کرتی رہتی ہے۔ 1989ء کے بعد جب سے کشمیر کی جدوجہد آزادی کا نیا دور شروع ہوا ہے تو انتہاپسندمودی سرکار کا جنون مزید عود کر آیا اور اس نے اپنے فوج کو مزید ظالمانہ اختیارات دیے اور اِنڈین آرمی چیف کے بقول یہ قوانین اِن کی فوج کی حفاظت کیلئے انتہائی ضروری ہیں یعنی خود ان کا چیف بھی اِس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ وہ صرف اپنی فوج کی حفاظت کا ذمہ دار ہے چاہے اِس کیلئے اسے کشمیریوں کا قتل عام کیوں نہ کرنا پڑے جو وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ کشمیر ایک عام تنازعہ نہیں کہ بھارت عالمی برادری کے سامنے اسے دہشت گردوں کی کاروائی بنا کر پیش کرے جو کہ وہ کرتا رہا ہے۔ دہشت گردی کی اصطلاح تو پچھلے کچھ برسوں میں عام ہوئی لیکن کشمیری تو یہ جنگ اس وقت سے لڑ رہے ہیں جب ہندو خود بھی انگریز سے آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے لیکن اس سب کچھ کو وہ آزادی کی تحریک کا نام دیتے تھے جبکہ انہیں انگریزوں سے اتنی زیادہ تکلیف بھی نہ تھی جتنی کشمیری بھارت کے ہاتھوں اٹھا رہے ہیں۔
کشمیریوں کو روزانہ کی بنیاد پر بھارتی مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان کی بنیادی ضرورتیں بھی کرفیو کی نظر ہو جاتی ہیں لیکن مودی سرکار کو نہ تو بھوک سے بلکتے کشمیری بچوں کی پرواہ ہے نہ ہسپتالوں میں دواسے محروم بیماروں سے کوئی سروکار ہے۔ بھارت کو صرف ایک جنون ہے کہ کسی بھی قیمت پراس کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار رہے بلکہ جام شہادت نوش کرتے کشمیری تو اِس کا کام مزید آسان بنا دیتے ہیں کہ اس طرح کشمیری مسلمانوں کی تعداد میں کمی واقعہ ہوجاتی ہے۔ 7 جولائی کادلخراش واقعہ لیجئے جب کشمیرمیں 16سال کے طالبعلم اور اس کی نماز جنازہ میں شریک ایک نوجوان کو بھی شہید کر دیاگیا تھا۔یہ وہ عمر ہے جس کو بچوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اقوم متحدہ اپنی امن فوج کو اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ متاثرہ ملکوں میں سولہ سال تک کے بچوں پر ہتھیار اٹھانے سے گریز کریں۔ لیکن مغرب اور خاص کر امریکہ کے چہیتے بھارت پر اس قانون یاضابطہ اخلاق کااطلاق کیوں نہیں ہوتا ۔
مقتدرقوتیں اقوام متحدہ سے بھارت کیخلاف کوئی کاروائی کرنے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتیں۔ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے والی قومیں اگر بھارت کادورہ کریں تو وہ بھی جان جائیں گے کہ دہشت گردی کی ہر کاروائی کا ذمہ دار پاکستان کو گرداننے والا بھارت خود کیا کر رہا ہے۔ اور کشمیر تو دو ایٹمی قوتوں کے درمیان ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ایشیاء سے امن اور ترقی سے محروم ہے۔ اگر بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے تو اس دیرینہ اورپیچیدہ تنازعہ کاپائیدار حل تلاش کیاجاسکتا ہے۔کشمیری بھی آزادی کا اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا کہ دنیا کا کوئی بھی دوسرا انسان اور ان کا مطالبہ انتہائی منطقی بھی ہے کہ وہ مسلمان اکثریتی ریاست ہے ا سلئے اسے ہندو کا غلام بنانے کاکوئی جوازنہیں بنتا۔ جس طرح دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو آزادی کا حق ہے جو مغرب نے ایسٹ تیمور میں میں بڑی آسانی سے تسلیم کیا وہیں سارے اصول مسلمانوں کیلئے کیوں بدل جاتے ہیں۔ بھارت کو یہ حقیقت تسلیم کرناہوگی، کشمیر اس کااٹوٹ انگ نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ ہے۔