محمد عرفان
گرمی پہلے بھی ہوتی تھی، سورج پہلے بھی نکلتا تھا، لیکن جو تپش اب محسوس ہو رہی ہے وہ صرف موسمی نہیں، بلکہ ماحولیاتی بے حسی کی آگ ہے، جو آسمان سے نہیں، زمین سے اٹھ رہی ہے۔ پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلی اب صرف فطرت کا انتباہ نہیں، بلکہ ایک قومی بحران بن چکی ہے۔ درجہ حرارت کی مسلسل بلند ہوتی سطح، خشک ہوتی زمین، پگھلتے گلیشیئرز، کم ہوتے دریاؤں اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بریک ڈاؤنز کی صورت میں یہ بحران ہر دروازے پر دستک دے رہا ہے، مگر نہ کان سننے کو تیار ہیں اور نہ آنکھیں دیکھنے پر آمادہ۔
پاکستان کی آبادی 25 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے، اور اسی کے تناسب سے اس کی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں۔ مگر قدرتی وسائل کا استعمال، بالخصوص پانی، زمین اور توانائی، غیر مستحکم اور تباہ کن سطح پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اس عدم توازن کو اور خطرناک بنا رہی ہے۔ زمینی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے بلکہ انسانی صحت، خوراک کی سلامتی، اور رہائش کی بنیادی سہولتوں کو بھی نگل رہا ہے۔
کسی بھی ملک کی معیشت کا پہیہ تبھی چلتا ہے جب اس کے قدرتی وسائل مستحکم اور متوازن ہوں۔ پاکستان کی معیشت کا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے۔ مگر یہی زراعت آج سب سے زیادہ موسمیاتی اثرات کی زد میں ہے۔ پہلے جو فصلیں ایک خاص وقت پر تیار ہوتی تھیں، اب وہ یا تو وقت سے پہلے سوکھ جاتی ہیں یا ناقص پیداوار دیتی ہیں۔ کپاس، جو کبھی پاکستان کا ‘‘سفید سونا’’ کہلاتی تھی، اب گرمی اور کیڑوں کے سبب کم ہوتی جا رہی ہے۔ گندم کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے کیونکہ شدید گرمی کے باعث زمین کی نمی ختم ہو جاتی ہے۔ فصلوں کا وقت مختصر ہو رہا ہے، اور کیڑے مار دواؤں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، جو نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی مضر ہے۔
پانی کی صورتحال کسی ایمرجنسی سے کم نہیں۔ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1951ء میں 5,600 مکعب میٹر تھی، جو اب گھٹ کر 1,000 مکعب میٹر سے بھی کم ہو چکی ہے۔ یہ وہ سطح ہے جس کے بعد ملک ‘‘آبی قحط’’ کا شکار قرار دیا جاتا ہے۔ دریائے سندھ، جو ملک کی زرعی شہ رگ ہے، اب موسمیاتی تبدیلی کے باعث غیر متوقع انداز میں بہتا ہے۔ بارشیں یا تو انتہائی شدید ہوتی ہیں یا بالکل نہیں ہوتیں۔ گلیشیئرز کا پگھلاؤ بھی غیر مستقل ہو گیا ہے، جو یا تو سیلابی ریلوں کا سبب بنتا ہے یا پانی کی طویل قلت کا۔
توانائی کا بحران ہر سال شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ بجلی کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ سپلائی میں کمی آ جاتی ہے کیونکہ ہمارے بجلی گھروں میں سے بیشتر پن بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ جب پانی ہی نہ ہو تو بجلی کیسے پیدا ہو؟ نتیجتاً بجلی کی طویل بندش، کاروباری سرگرمیوں میں کمی، اور عوامی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا حکومت اس تمام صورتحال کے لیے تیار ہے؟ کیا کوئی پائیدار اور واضح ماحولیاتی پالیسی موجود ہے؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ اگرچہ ‘‘بلین ٹری سونامی’’ ایک امید کی کرن تھا، جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو ماحولیاتی میدان میں قابلِ ذکر مقام دلایا، لیکن یہ منصوبہ بھی تسلسل، شفافیت اور نگہداشت کے بغیر ادھورا رہ گیا۔ درخت لگانے سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان درختوں کی حفاظت کی جائے، انہیں پانی دیا جائے، ان کے اردگرد موجود ماحول کو محفوظ رکھا جائے۔
علاوہ ازیں، دیگر صوبوں میں اس منصوبے کی رفتار یا تو انتہائی سست ہے یا بالکل غیر موثر۔ اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی اختلافات، وسائل کی کمی، اور سب سے بڑھ کر سنجیدگی کی کمی ہے۔ درخت لگانے کے علاوہ شہری ترقی، صنعتی آلودگی، کچرے کا انتظام، ٹرانسپورٹیشن، اور تعلیمی نظام میں بھی ماحولیاتی اصولوں کا نفاذ ضروری ہے، جو بدقسمتی سے ہماری پالیسیوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان کے تعلیمی ادارے بھی ابھی تک ماحولیاتی تعلیم کو ایک سنجیدہ مضمون کے طور پر نہیں اپنا سکے۔ اسکولوں میں ماحولیات محض ایک باب ہوتا ہے، اور جامعات میں تحقیق کا دائرہ محدود ہے۔ جب تک نئی نسل کو ماحولیاتی تبدیلی کی شدت، وجوہات اور اس کے اثرات کا شعور نہیں دیا جائے گا، تب تک وہ صرف گرمی کی شدت کو بددعا دے گی، مگر اس کا حل تلاش نہیں کرے گی۔
ایک اور اہم پہلو شہری منصوبہ بندی کا ہے۔ ہمارے شہر کنکریٹ کے جنگل بنتے جا رہے ہیں، جہاں گرمی مزید قید ہو جاتی ہے۔ سرسبز علاقوں کو پلازوں میں بدلنا، گرین بیلٹس کو تجارتی مراکز میں تبدیل کرنا، اور درختوں کو سڑکوں کی کشادگی کی نذر کر دینا وہ طرزِ حکمرانی ہے جو صرف نقصان ہی لاتی ہے۔ شہروں میں ہرے مقامات کی کمی نے ہیٹ ویو کا خطرہ بڑھا دیا ہے، اور غریب آبادی سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔
عوام کا کردار بھی غیر سنجیدہ ہے۔ کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینکنا، پانی ضائع کرنا، درخت کاٹنا، گاڑیوں سے دھواں چھوڑنا، یہ سب عام رویے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کو تیز کر رہے ہیں۔ اگر ہر فرد خود کو اس بحران کا حصہ سمجھے اور روزمرہ زندگی میں ماحولیاتی بہتری کے اصول اپنائے، تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
اب ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہو گی کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک ماحولیاتی معاملہ نہیں، بلکہ قومی سلامتی، معیشت، صحت، تعلیم، خوراک، توانائی، اور پانی جیسے بنیادی اداروں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ جب تک حکومت اسے صرف وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی فائلوں میں محدود رکھے گی، تباہی کا دائرہ بڑھتا جائے گا۔
یہ وقت پالیسی نہیں، عمل کا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم صرف سوچ نہیں، اقدامات سے ثابت کریں کہ ہم اپنی زمین سے، اپنی نسلوں سے، اور اپنے مستقبل سے وفادار ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات نہ بدلیں، اگر ہم نے ماحول کو صرف تقریروں اور منصوبہ بندی کی فائلوں میں دفن رکھا، تو وہ دن زیادہ دور نہیں جب گرمی صرف موسم کا نام نہیں رہے گی، بلکہ موت کا پیغام بن جائے گی۔ وقت کی آواز یہی ہے: جاگ جاؤ، سنبھل جاؤ، اور اپنے حصے کا کام آج ہی کر ڈالو، کیونکہ کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔