سیلاب: 4 لاکھ 59 ہزار سے زائد شہری محفوظ مقامات پر منتقل

ریسکیو کشتیوں کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن کا عمل تاحال ملتان اور مظفرگڑھ میں جاری 
لاہور(کرائم رپورٹر)سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز، ڈاکٹر رضوان نصیر نے پنجاب کے تمام اضلاع کی ماہانہ کارکردگی اور سیلابی علاقہ جات میں حالیہ فلڈ بوٹ ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ان ریسکیورز کو سراہا جنہوں نے پاکستان کے سب سے بڑے فلڈ بوٹ ریسکیو آپریشن میں دن رات ایمرجنسی سروسز فراہم کرتے ہوئے پنجاب کے متاثرہ سیلابی، دریائی علاقوں سے 4 لاکھ 59 ہزار سے زائد پھنسے ہوئے شہریوں کو مویشیوں سمیت محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ ریسکیو کشتیوں کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن کا عمل تاحال ملتان اور مظفرگڑھ میں جاری ہے جو سروے ٹیموں، گھروں تک خوراک کی ترسیل اور ’’کلینک آن بوٹس‘‘ کی ہیلتھ ٹیموں کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ اس غیر معمولی سیلاب کے دوران پنجاب میں 1517 کشتیوں کے ذریعے 35 ہزار سے زائد ''بوٹ ٹرپ'' کیے گئے تاکہ سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیاجا سکے۔ انہوں نے دن رات جاری اس فلڈ ریسکیو آپریشن میں شریک تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرز اور ریسکیورز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز کو بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 نے سیلاب کے دوران بھی روٹین کی ایمرجنسیز میں ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کو جاری رکھا اور ستمبر 2025 کے دوران 2لاکھ 18ہزارسے زائد ایمرجنسی کے شکار لوگوں کو ریسکیو سروسز فراہم کیں، وہ گزشتہ روز فلڈ ریسکیو آپریشن اور روٹین ایمرجنسی ریسپانس کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے ونگز کے سربراہان کے ساتھ ساتھ، پنجاب بھر کے ڈویڑنل اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرز نے اپنے اپنے اضلاع کی کارکردگی، فلڈ ریسپانس کے دوران درپیش چیلنجز اور بڑے حادثات پر بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ فلڈ ریسکیو آپریشن کے علاوہ ریسکیو 1122 نے ستمبر کے دوران219,042ایمرجنسیز پر رسپانس دیا، جن میں 146,410میڈیکل ایمرجنسیز، 42,065روڈ ٹریفک حادثات، 6417 ڈلیوری کیس، 5708 سلپ اورگرنے کے واقعات، 3956 جرائم کی ایمرجنسیز، 2116 کام کی جگہوں پر ایمرجنسیز، 1631 کرنٹ لگنے کے واقعات، 1547 جانوروں کا ریسکیو، 1259 آتشزدگی کے واقعات، 292 جھلسنے کے واقعات، 128 عمارت گرنے کے واقعات، 108 ڈوبنے کے حادثات اور 7405 متفرق ایمرجنسیز شامل ہیں۔ڈاکٹر رضوان نصیر نے 128 عمارت گرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جن میں 23 افراد جاں بحق اور 208 شدید زخمی ہوئے۔ یہ تعداد ستمبر 2024 کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ ہے کیونکہ ستمبر2024 میں صرف 60 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ انہوں نے عوام سے خصوصی طور پر اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں بالخصوص چھتوں کی ساختی مضبوطی کو ضرور چیک کریں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے