جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا صدر‘وزیراعظم کا ملاقات میں اتفاق
بھارتی رویئے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے، پاکستان علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، عالمی برادری پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا نوٹس لے:ملاقات کا اعلامیہ
ملک میں عنقریب بجلی کی پیداوار کے لئے فری مارکیٹ قائم کی جائے گی،توانائی منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر نا قابل قبول ہے، حکومت شعبہ توانائی میں پائیدار اصلاحات کیلئے موثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے:وزیراعظم
اسلام آباد (آئی این پی ‘آن لائن )صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے پہلگام حملے کے بعد بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔جمعرات کو ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک تھے جبکہ ملاقات میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کیساتھ کشیدگی کے تناظر میں سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماں نے بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ملاقات میں بھارتی جارحانہ رویے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت پر پاکستان کے ردعمل کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بھارتی رویے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے، پاکستان علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا، پاکستانی قوم متحد ہے اور اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ افواج پاکستان کسی بھی خطرے یا جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ملاقات میں پہلگام واقعے پر بغیر کسی تحقیقات کے لگائے گئے بھارتی الزامات پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے اور بے پناہ انسانی اور معاشی نقصانات اٹھانا پڑا، عالمی برادری پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں بھارت کے ملوث ہونے کا نوٹس لے اور بھارت کی جانب پاکستان میں عسکریت پسند بھیجنے ، ان کی فنڈنگ اور تربیت کا نوٹس لیا جائے۔صدر مملکت نے بھارتی بے بنیاد الزامات پر حکومتی ردعمل اور ذمہ دارای کیساتھ صورتحال سے نمٹنے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان ہر قیمت پر اپنی خودمختاری ،علاقائی سالمیت اور اہم قومی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ملاقات میں کشمیری عوام کے حق ِخودارادیت کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر فوری عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا گیا۔وزیر اعظم نے کوویڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد صدر مملکت کی صحت بارے بھی دریافت کیا۔دریں اثناء زیر اعظم محمد شہبازشریف نے کہاہے بھارت کا پانی کو جارحیت کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے ‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کے طور پر، پاکستان نے 90,000 سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا،152 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف سے عوامی جمہوریہ چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ کی وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کی مضبوط اور ثابت قدم حمایت پر چین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔، وزیر اعظم نے 22 اپریل 2025 سے ہندوستان کے اقدامات کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو سمجھنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ بالخصوص وزیر اعظم نے اس واقعے کی قابل اعتماد اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کے لیے اپنی مخلصانہ پیشکش کی توثیق پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ علاوہ ازیںوزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے ملک میں عنقریب بجلی کی پیداوار کے لیے فری مارکیٹ قائم کی جائے گی،توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر نا قابل قبول ہے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کے نرخوں میں کمی اور توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کے حوالے سے انٹیگریٹڈ جنریشن کپیسٹی ایکسپنشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2024-2034 کا اجلاس منعقد ہوا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ تقریبا ساڑھے سات روپے کمی کے بعد حکومت پاکستان عوام کی مزید سہولت کے لیے شعبہ توانائی میں پائیدار اصلاحات کے لیے ایک موثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔وزیراعظم نے ملک میں توانائی کی پیداوار اور پانی کے وافر ذخیرے کا موثر نظام قائم کرنے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر نا قابل قبول ہے۔