امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ امریکا اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ میں مزید امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک ویڈیو بیان میں، ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کو ’درست مشن‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے، جو امریکا کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکی حکام نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایران واقعی ایسا کوئی ہتھیار تیار کر رہا تھا یا نہیں۔امریکی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں، اور یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری تھے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل ہلاک ہونے والے تین امریکی فوجیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ان کا بدلہ لے گا اور کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دوسری جانب، ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اشارہ دیا کہ امریکا ایران کی نئی قیادت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر اپنے تازہ خطاب میں انہوں نے سفارتکاری کا کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی حمایت کی۔ ایران نے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد عبوری قیادت قائم کی ہے، جس میں صدر مسعود پزشکیان، چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی اور آیت اللّٰہ علی رضا اعرافی شامل ہیں۔