مشرف دور میں دیگر ممالک کیلئے فوجی بیس بنے‘ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف پیپلز پارٹی کراسکتی ہے
گلگت بلتستان کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختیارات ملنے سے ہی عوام کی قسمت بدلے گی اور یہ اختیار ہم دلوائیں گے‘بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیخلاف سازشیں ناکام ہوں گی:سکردو میں جلسہ سے خطاب
سکردو (آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے پاکستان کو پیپلز پارٹی نے فوجی طاقت بنایا ، چاہتے ہیں ملک معاشی سطح پر بھی مضبوط ہو ۔ فیلڈ مارشل کی جنگ کے خاتمے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں کامیابی کے لئے دعا گو ہیں ۔ گلگت بلتستان کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختیار دلوائیں گے ۔ ہماری جماعت پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرنے والی واحد جماعت ہے ۔ سکردو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا گلگت بلتستان میرے دل کے بہت قرہیب ہے ۔ گذشتہ الیکشن میں پورے جی بی کا جس طرح دورہ کیا اس طرح کوئی دوسر سیاستدان یہاں نہیں پہنچا تھا ۔ ہمار اتعلق صرف سیاسی رشتہ نہیں نسلوں کا ساتھ ہے اور آئندہ ب بھی رہے گا ۔ انہوں نے کہا اس الیکشن میں اس لحاظ سے سوگ کا مقام ہے کہ خطے میں جنگ کے باعث بھرپور انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں تھا ۔ اس وقت فیلڈ مارشل جنگ کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں ۔ ہم انکی کامیابی کے خو اہاں ہیں ایران میں بچیوں کے سکول پر بم گرا کر انھیں شہید کیا ۔ عالمی قو انین کی خلافورزی کرتے ہوے آیت اللہ خامنائی اور دیگر قیادت کو شہید کیا گیا ۔ ایسے سوگوار ماحول میں یہاں آکر الیکشن مہم چلانا مناسب نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی امن پسند جماعت جنگ میں جو شہادتیں ہوئیں یہ صرف ایران تک محدو نہیں۔ فلسطینیوں کو بھی شہید کیا جارہا ہے ۔ جنگ کے نتیجے میں جو معاشی بحران پیدا ہوا اس کے نتیجے میں ہمارا ملک بھی مہنگائی کے دور سے گزر رہا ہے ۔ عوام شدید مشکل میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور ہمیں عوام کی مشکلات کا بخوبی انداز اہے ۔ انہوں نے کہا پی پی کی سیاست دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے ۔ ہماری سیاست پسماند ہ طبقے سوچنے والی ہے ۔ ہم غریبوں کا پہلے سوچتے ہیں پھر امیروں کا خیال کرتے ہیں ۔ باقی سیاسی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے میں ملک کی ترقی سمجھتی ہیں یہ کیسی معاشی پالیسی ہے جس میں امیر مزید امیر ترین اور غریب ، غریب تر ہوتا جائے ۔انہوں نے کہا زردار ی ملک کا صدر بنا تو بینظیر انکم سپورٹ کے زریعے غریبوں کا سہارا بنا ۔ آج اس پروگرام کو دنیا بھر میں سراہایا جا رہا ہے ۔ مصر سے لے کر برازیل تک بی آئی ایس پی جیسا پروگرام اپنے ملک میں لانا چاہتے ہیں دوسری جانب اسلام آباد والے اس پروگرام کے خاتمے کے درپے ہیں ۔ تمام سیاسی جماعتیں جتنی مرضی سازشیں کر لیں ہم اس پروگرام کو ختم نہیں ہونے دیں گے ۔ بلکہ آنے والے بجٹ میں وزیراعظم سے اس پروگرام میں اضافے کا اعلان کروائیں گے ۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کی سیاست معاشی طور پر عو ام کو مجبوط بنانا ہے ۔ یہ پیپلز پارٹی ہی ہے جس نے پاکستان کو دفاعی طاقت بھی بنا یا ایٹم بم کی وجہ سے آج کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔ یہ تحفہ بھی قائد پی پی بھٹو کا دیا ہوا ہے ۔ اس تحفے کا اعلان انہوں نے بلتستان سے کیاتھا ۔ انکا کہنا تھا کہ ہم گھاس کھائیں گے لیکن ملک کو ایٹمی قوت بنا کر رئیں گے ۔ اج پاکستان پوری دنیا میں واحد ایٹمی طاقت ہے ۔ انہوں نے ایٹم بم کے بعد بھٹو کی بیٹی بینظرنے ملک کو میزائل ٹیکنالو جی پروگرام دیا ۔ انہوں نے کہا ڈکٹیٹر مشرف نے امریکہ کو اسلامی ممالک پر حملے کرنے کے لئے اپنے ملک میں اڈے بنانے دئیے ۔ ان اڈوں کو لات مار کر خدا حافظ کہنے والا صدر کون تھا وہ صدر پاکستان آصف علی زرداری تھا ۔ اس زرداری کو سلام جس نے پاکستان کو بہت بڑی آفت سے بچایا ۔ انہوں نے کہا چاہتے ہیں پاکستان دفاعی اور معاشی ہر لحاظ سے مضبوط ہو ۔ انہوں نے کہا گلگت بلتستان کو ناردرن ایریاز کہا جاتا تھا آپکی اور ہماری تین نسلوں کی جدوجہد کا نتیہجہ ہے کہ صدر زرداری نے گلگت بلتستان کو نام دے کر شناخت دی۔ انہوں نے کہا گلگت بلتستان کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختیارات ملنے سے ہی عوام کی قسمت بدلے گی اور یہ اختیار ہم دلوائیں گے ۔ ا نہوں نے کہا اسلام آباد کو ماننا پڑے گا گلگت بلتستان کے و سائل پر عوام کا حق ہے ۔ جب تک وہ نہیں مانے گا جی بی با اختیار نہیں ہو سکتا ۔