کراچی: عید الاضحیٰ کے موقع پر سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے جانوروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ زوروں پر ہے، لیکن اس بار قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں 50 سے 70 فیصد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مویشی منڈیوں میں کم وزن کی بچھیا کی قیمت ایک لاکھ 40 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ بکرے کی کم قیمت 40 ہزار روپے سے شروع ہو رہی ہے، جو عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہے۔
بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ چارے، ٹرانسپورٹیشن، ٹیکسز اور دیگر لاگتوں میں اضافے کی وجہ سے جانوروں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ جانوروں کی نسل، وزن اور خوبصورتی کے حساب سے قیمتیں مختلف ہیں اور ہر بیوپاری اپنی مرضی سے قیمت مقرر کر رہا ہے کیونکہ سرکاری سطح پر کوئی کنٹرول یا میکنزم موجود نہیں۔
کراچی میں 13 سرکاری مویشی منڈیاں فعال ہیں جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں جانور فروخت کیے جا رہے ہیں۔ متوسط طبقے کے لیے قیمتوں کی موجودہ صورتحال قربانی کرنا مشکل بنا رہی ہے، خاص طور پر کم وزن کی بچھیا جو پہلے ایک لاکھ روپے سے کم میں مل جاتی تھی اب کم از کم ایک لاکھ 40 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ بکرے کی قیمت بھی پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک مربوط میکنزم بنائے تاکہ منڈیوں میں قیمتوں کا تعین شفاف اور منصفانہ طریقے سے کیا جا سکے، ورنہ ہر بیوپاری اپنی من مانی قیمت وصول کر رہا ہے جو عام لوگوں کے لیے بوجھ بنتی جا رہی ہے۔