سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ چین نے اس مقام پرپہنچنے کیلئے آخرکن اصولوں کادامن مضبوطی سے تھاماہے کہ آج اس نے عالمی طور پرخودکوناقابل تسخیرمنوالیاہے۔چین نے اپنی معاشی ترقی کیلئے جنگ سے گریزکے اصول کواپنایاہواہے۔چین کاکہناہے کہ جنگ سے گریزکریں لیکن فیصلہ کن طورپرجیتنے کیلئے تیاررہیں۔چین کی گزشتہ چاردہائیوں کی پالیسی میں فوجی جارحیت کی بجائے سفارتی دبا،معیشت،اورتزویراتی پوزیشننگ پرتوجہ رہی ہے۔چین کے عسکری مفکر’’سن زو‘‘کی کتاب’’آرٹ آف وار‘‘میں جنگ کابنیادی اصول یہ بتایاگیا ہے کہ سب سے اعلی جنگ وہ ہے جولڑی ہی نہ جائے اوردشمن بغیرتلواراٹھائے ہارمان لے۔چین ہمیشہ ایسے حالات پیداکرتاہے کہ دشمن حملہ کرنے سے پہلے ہی خوفزدہ ہوجائے یا خود ہی پیچھے ہٹ جائے۔چین نے اسی اصول پرعمل کرتے ہوئے سفارتی،معاشی اورتکنیکی میدان میں اپنی طاقت کواستعمال کیااورفوجی محاذپرخودکومحتاط مگرمکمل تیاررکھاہواہے۔
چین کی خاموش ترقی،دھماکہ خیزنتائج پالیسی کی حامل رہی ہے۔چین کامانناہے کہ جنگ نہ کرو،مگراگروقت آئے تودشمن کو سنبھلنے کاموقع نہ دو۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان نے اسی چینی پالیسی پرعمل کیاہے۔چینی پالیسی کاتاریخی پس منظریہ ہے کہ چین نے آخری بڑی جنگ1979میں ویتنام کے ساتھ لڑی۔اس کے بعد40برس سے زائد عرصے تک چین نے کسی براہ راست جنگ میں حصہ نہیں لیامگراس عدمِ شمولیت کوکمزوری یاسستی سمجھناایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔
چین نے’’غیرروایتی جنگی حکمت عملی‘‘کواپنایا۔سائبروارفیئراورڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کرکے اس کے بہترین نتائج کودنیاسے منوایاہے۔بحری طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے خاص طورپرجنوبی بحیرہ چین میں،چین کے جنگی بیڑے دنیاکے سب سے بڑے بیڑوں میں شامل ہوچکے ہیں۔چین کی جنگی حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کواپنے خطے میں داخل ہی نہ ہونے دیاجائے جس کیلئے اس نے جدیداینٹی ایکسیس ایریل ڈینائل اے2اوراے ڈی سسٹم کومتحرک کررکھاہے۔
چین کی پالیسی کادوسراحصہ یہ ہے کہ:
٭اگرجنگ ناگزیرہوتوپہل چین کرے گا،اوراس جنگ کااہم پہلویہ ہوگاکہ اگرجنگ ہوتودشمن کو سنبھلنے نہ دو۔
٭اس کی عملی حکمت عملی یہ ہوگی کہ پہلاواراتناکاری ہوکہ دشمن کوردعمل کاوقت نہ ملے۔
٭الیکٹرانک جنگ سے دشمن کی مواصلاتی صلاحیت تباہ کردیاجائے۔
٭سِپریسِی اورسرپرائزاٹیک حملے سے پہلے حریف کواندھیرے میں رکھنااوربعد ازاں ملٹی ڈومین وارفیئرمیں زمین،فضا،سمندر،سائبر اورخلامیں بیک وقت حملہ کرکے اپنی برتری قائم کرلی جائے۔
اس کی عملی مثال اور ماڈل یہ ہو گا کہ:
٭چین کے اے ٹو،اے ڈی،اینٹی ایکسیس،ایریاڈینائل میزائل یہ یقینی بنائیں گے کہ اگرامریکایااس کے اتحادی چین کے قریب آئیں توانہیں بڑھ کرچینی حدودمیں داخل ہونے سے پہلے نہ صرف روک دیاجائے بلکہ پہلے ہی مرحلے میں تباہ کردیاجائے۔
٭چین نے کھلم کھلاجنگ چھیڑنے کی بجائے سایہ داردفاعی ترقی کی راہ اپنائی ہے جس کیلئے بنیادی اقدامت کے طورپرجے20اور جے31جدید ترین سٹیلٹھ جنگی طیارے،ڈی ایف17ہائپرسونک میزائل تیارکئے ہیں جنہیں روکناموجودہ کسی بھی دفاعی سسٹمزکیلئے روکنامشکل ہے۔
٭سائبرواسپیس فورسزکی تشکیل،جن کاہدف دشمن کے انفراسٹرکچرکوابتدائی مرحلے میں مفلوج کرناہے۔
٭بیلٹ اینڈروڈکے ذریعے عالمی سطح پراسٹریٹجک بندرگاہوں اورتنصیبات تک رسائی تاکہ بیک وقت ان کا استعمال فوری ممکن ہو اوردشمن کابروقت مضبوط محاصرہ کیاجاسکے۔
چین کی قیادت جانتی ہے کہ ایک براہِ راست جنگ کے نتائج معاشی اورسیاسی طورپرنقصان دہ ہوسکتے ہیںخاص طورپرامریکا کے ساتھ،اس لیے سائبرواراورپراکسی وارکوترجیح دی جاتی ہے۔اس لئے اقتصادی دبااورڈیجیٹل اثرورسوخ کو(مثلاافریقااورلاطینی امریکامیں)جنگی ہتھیارکے طورپراستعمال کیاجاتاہے۔
پاکستان کے ساتھ چین کااتحاداسی پالیسی کامظہرہے کہ پاکستان کوجدیدہتھیارفراہم کرکے چین نے ایک ایساپراکسی اسٹریٹجک شراکت دارحاصل کرلیاہے جوجنوبی ایشیامیں میدانی جنگ کابوجھ اٹھاسکتاہے۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ چین خودجنگ سے گریز کرتاہے،مگراگراس کامفادخطرے میں ہوتووہ اتنے مضبوط اتحادی تیارکرتاہے کہ جنگ میدان میں نہیں،دماغ میں جیتی جائے۔
چین کی پالیسی ایک مثالی تزویراتی حکمت عملی ہے،جوبتاتی ہے کہ طاقت کااصل کمال یہ نہیں کہ تم لڑو،بلکہ یہ ہے کہ تمہارا وجودہی اتنامثرہوجائے کہ دشمن لڑنے سے پہلے ہارمان لے ۔پاکستان کواس ماڈل سے سیکھ کراپنے عسکری،اقتصادی اورتکنیکی میدانوں میں بھی وہی جامعیت اوربیداری پیداکرنی چاہیے۔
چین کی چاردہائیوں پرمحیط دفاعی پالیسی کواگرایک جملے میں سمیٹاجائے تو وہ یہی ہوگا:جنگ نہ کرو،مگراگروقت آئے تودشمن کوسنبھلنے کاموقع نہ دو۔یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ چین کی عسکری فکر،خارجہ پالیسی،اورفوجی تیاریوں کی گہرائی پرمبنی ایک مکمل فلسفہ ہے۔چین نے1979کے بعدسے کسی بڑی جنگ میں عملی طورپرحصہ نہیں لیالیکن اس نے دفاعی لحاظ سے اپنے آپ کونہایت مستعد،متحرک اورسائنسی بنیادوں پرجدیدترین صلاحیتوں سے لیس کیاہے۔
اس حالیہ پاک بھارت جنگ میں ترکی نے ہمیشہ کی طرح پورے اخلاص کے ساتھ پاکستان کی مدد کااعلان کرتے ہوئے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ کشیدگی سے پہلے اس کی پاک نیوی کے ساتھ مشترکہ مشقوں نے بھارت اوراس کے اتحادیوں کویہ پیغام پہنچادیاتھاکہ اگراس نے سمندرکی طرف سے کوئی غلطی کی تواس کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے بحری بیڑے کی حرکت کااعلان توکیالیکن اپنی سرحدوں کے اندربھی بہت پیچھے رہاکیونکہ وہ سمجھتاتھاکہ اگراس نے مزیدغلطی کی توپاکستان نیوی کے اپنے
میزائل اس قدرسرعت کے ساتھ دشمن کاتعاقب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ بحری بیڑے کے ساتھ اس پرلدے جنگی جہازبھی غرق ہوجائیں گے۔
یادرہے کہ ترکی کی ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت اب اپنے تیارکردہ’’بیراکٹارٹی بی2ترک ڈرونز‘‘،میزائل نظام اورآبدوزٹیکنالوجی اب صرف ترکی کیلئے نہیں بلکہ قطر،آذربائیجان اور
دیگرمسلم ممالک کیلئے بھی قابل بھروسہ آپشن بن چکی ہیں۔
پاکستان-چین تعاون کی وسعت کایہ عالم ہے کہ پاکستان کوچین سے ملنے والی دفاعی مدد نہ صرف بھارت کیلئے توازن کاباعث ہے بلکہ یہ سعودی عرب،مصراورنائجیریاجیسے ممالک کیلئے بھی ایک مثال بنتی جارہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایران کی عسکری خودانحصاری کایہ عالم ہے کہ اس نے مغربی پابندیوں کے باوجودمیزائل ٹیکنالوجی،ڈرونز،اور سمندری دفاع میں قابلِ ذکرترقی کی ہے۔اس کی ٹیکنالوجی یمن اورحزب اللہ جیسے اتحادی گروہوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ مسلم نااتفاقی کی بناپرایران اس وقت امریکی حصارسے نکلنے کیلئے پوری کوششیں کررہا ہے۔
ترکی-پاکستان دفاعی معاہدے، قطر-ترکی اتحاد،ایران-عراق مشترکہ دفاعی فورمز،اورسعودی عرب کاپاکستان اوراردن سے تربیتی تعاون،ایک نئے اسلامی دفاعی بلاک کی جھلک دیتے ہیں اورمسلم ممالک میں باہمی دفاعی تعاون اس بات کامنتظرہے کہ خطے کے اسلامی ممالک کے قائدین سرجوڑکربیٹھیں۔جب اسرائیل بھارت کوہتھیارفراہم کرتاہے تواس کابراہِ راست ردعمل اسلامی دنیامیں بڑھتے ہوئے اتحاداورہتھیاروں کی خودکفالت کی صورت میں سامنے آرہاہے۔اسرائیل اوربھارت کے دفاعی معاہدے اوراسلامی ردِعمل کے طورپرسامنے آنے کے قوی امکان اب پہلے سے کہیں زیادہ نظرآرہے ہیں۔
اسلامی دنیامیں عسکری توازن اب مغرب یاروس پرمکمل انحصارسے نکل کرایک باہمی،مشرقی اورخودمختاردفاعی ڈھانچے کی جانب بڑھ رہاہے۔یہ نہ صرف علاقائی طاقتوں کومضبوط کررہاہے بلکہ امت مسلمہ کوعالمی سطح پرنئے مقام کی طرف لے جارہا ہے۔اسلامی دنیا،جوکبھی ہتھیاروں اورعسکری ٹیکنالوجی میں مغرب کی محتاج رہی،اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ حالیہ برسوں میں چین،ترکی،ایران اورپاکستان جیسے ممالک کی ابھرتی ہوئی دفاعی خودکفالت اورباہمی تعاون،اسلحہ جاتی توازن میں بڑی تبدیلیوں کاپیش خیمہ بن چکاہے۔
پاکستان نے ایک جنگی مہم کے ذریعے اپنے دفاعی صلاحیتوں کوثابت کیا۔چین کوعالمی سطح پربرتری دلائی جس نے امریکاو مغرب کوایک خاموش پیغام دیا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان تمام سیاسی انتشار،اقتصادی دبا،اورعالمی میڈیاکے تعصبات کے باوجود اب بھی اہم ہے،اورہمیشہ اہم رہے گا۔اس لئے ضروری ہے:
٭پاکستان کوچین کے ساتھ دفاعی تعاون کومزیدمستحکم کرناچاہیے۔
٭اسرائیلی دفاعی شراکت داریوں کاتجزیہ اورمتبادل بناناوقت کی ضرورت ہے۔
چی٭ن-پاکستان عسکری تربیت وپیداوارمیں مشترکہ ادارے قائم کیے جائیں۔
٭مغرب کو پیغام دیا جائے کہ پاکستان، خطے کی سلامتی اور توازن کا کلیدی ستون ہے اورعالمی امن کیلئے پاکستان بہت اہم ہے!