واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سال 2025 کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے سال کے دوران کم از کم 2.2 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کی، جس میں سب سے بڑا حصہ کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروبار کا رہا۔
927 صفحات پر مشتمل مالیاتی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کرپٹو انڈسٹری سے ایک ارب ڈالر سے زائد کمائے، جبکہ ان کی مجموعی آمدن 2024 کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی۔ گزشتہ سال ان کی آمدن تقریباً 600 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو Celebration Coins سے تقریباً 635 ملین ڈالر کی رائلٹی حاصل ہوئی، جبکہ World Liberty Financial سے انہیں 500 ملین ڈالر سے زائد آمدن ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کرپٹو کمپنی کے قیام میں ٹرمپ کے بیٹوں اور ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے بچوں کا بھی کردار رہا۔مالیاتی دستاویزات کے مطابق پہلی بار کرپٹو کرنسی سے حاصل ہونے والی آمدن نے ٹرمپ کے روایتی رئیل اسٹیٹ کاروبار کو پیچھے چھوڑ دیا، جو کئی دہائیوں سے ان کی دولت اور کاروباری سرگرمیوں کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے معروف مارا لاگو (Mar-a-Lago) کلب سے تقریباً 77 ملین ڈالر، جبکہ فلوریڈا کے شہر ڈورال میں واقع گالف کلب سے 122 ملین ڈالر کی آمدن حاصل کی۔
اس کے علاوہ نیو جرسی، فلوریڈا اور اسکاٹ لینڈ میں واقع ان کے مختلف گالف کلبز سے بھی 30، 30 ملین ڈالر سے زائد آمدن ریکارڈ کی گئی۔مالیاتی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب گھڑیوں، جوتوں، خوشبوؤں، گٹار اور دیگر برانڈڈ مصنوعات کی فروخت اور لائسنسنگ سے تقریباً 4.7 ملین ڈالر کی رائلٹی بھی حاصل کی۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے عہدے سے مالی فائدہ اٹھایا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق تمام کاروباری سرگرمیاں متعلقہ قوانین کے مطابق انجام دی جا رہی ہیں اور مالیاتی رپورٹ میں تمام معلومات شفاف انداز میں ظاہر کی گئی ہیں۔سیاسی اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کرپٹو کرنسی کی صنعت ٹرمپ کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور برانڈ لائسنسنگ سے حاصل ہونے والی آمدن بھی بدستور نمایاں رہی۔