دنیا بھر میں دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک) اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار ہوتا ہے۔
یہ ایک ایسی طبی ہنگامی صورتحال ہے جو اچانک اور کسی بھی وقت پیش آ سکتی ہے، اور بروقت اقدام نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
دل کا دورہ کیوں ہوتا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق دل کا دورہ اس وقت ہوتا ہے جب:
دل کے عضلات کے کسی حصے کو آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی رک جاتی ہے
نتیجتاً متاثرہ پٹھا جلد مردہ ہونا شروع ہو جاتا ہے
اہم علامات
دل کے دورے کی عام علامات میں شامل ہیں:
سینے میں شدید درد یا دباؤ
ایک یا دونوں بازوؤں، گردن، جبڑے، کمر یا پیٹ میں درد
سانس لینے میں دشواری
سردی کا پسینہ
متلی یا ہلکا سر چکرانا
ماہرین کے مطابق ان علامات کو پہچاننا اور سنجیدگی سے لینا زندگی بچانے کے لیے پہلا اور اہم قدم ہے، خاص طور پر جب آپ اکیلے ہوں۔
دل کا دورہ پڑنے پر فوری کرنے والے اقدامات
1. ایمرجنسی سروسز کو فوراً کال کریں
ہچکچاہٹ نہ کریں، فوراً ایمبولینس یا ریسکیو 1122 پر کال کریں
یہ مت سوچیں کہ درد خودبخود ختم ہو جائے گا، جتنی جلدی مدد پہنچے گی، اتنے زندہ بچنے کے امکانات بڑھیں گے
2. ڈسپرین چبائیں
325 ملی گرام ڈسپرین کی گولی چبائیں (نگلنے کے بجائے)
چبانے سے گولی جلد خون میں جذب ہو جاتی ہے اور خون جمنے کے عمل کو روکنے میں مدد ملتی ہے
3. پرسکون اور آرام دہ پوزیشن اختیار کریں
گھبراہٹ سے بچیں، کیونکہ یہ دل پر دباؤ بڑھاتی ہے
ترچھے ہوکر ٹیک لگا کر بیٹھیں تاکہ دل کو کم دباؤ کا سامنا ہو
کن چیزوں سے گریز کرنا چاہیے؟
علامات کو نظر انداز نہ کریں: وقت ضائع کرنا جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے
خود گاڑی چلا کر اسپتال نہ جائیں: حالت بگڑ سکتی ہے اور حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
غسل نہ کریں: وقتی آرام تو مل سکتا ہے لیکن دل پر مزید دباؤ بھی پڑتا ہے
یاد رکھیں: پہلا گھنٹہ “گولڈن آور” ہوتا ہے
طبی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے پہلے گھنٹے میں کیے گئے اقدامات ہی مریض کے بہتر یا بدتر نتائج کا تعین کرتے ہیں۔ فوری اور درست ردِ عمل زندگی بچا سکتا ہے۔