پیوٹن پر یوکرین کے قاتلانہ حملے کے ثبوت نہیں ملے امریکی انٹیلی جنس

 حملے کا دعوی مشکوک ، روس امن کی راہ میں خود رکاوٹ بنا ہوا ہے:خفیہ رپورٹ
واشنگٹن(آئی این پی )امریکی انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یا ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل  کی رپورٹ کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے حکام نے اپنی خفیہ رپورٹ میں بتایا کہ سی آئی اے کی تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ یوکرین نے پیوٹن یا ان کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین کا ہدف اسی علاقے میں موجود ایک فوجی مقام تھا جو پیوٹن کی رہائش گاہ کے قریب نہیں تھا۔ سی آئی اے نے اس معاملے پر عوامی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روسی الزام کو سنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک آرٹیکل شیئر کیا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ حملے کا دعوی مشکوک ہے اور روس امن کی راہ میں خود رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس سے قبل سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو انٹیلی جنس رپورٹ پر بریفنگ دی تھی۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر ناراض ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ممکن ہے ایسا حملہ ہوا ہی نہ ہو۔ ان کے مطابق صدر پوتن نے فون پر انہیں بتایا تھا کہ ڈرونز نے ان کی جھیل کنارے واقع رہائش گاہ کو نشانہ بنایا