روم(آئی این پی )وسطی روم میں واقع ایک چرچ میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے مشابہ فرشتے کی تصویر نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ۔ ایک قومی اخبار نے اس بارے میں رپورٹ شائع کی، جس کے بعد وزارتِ ثقافت نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں، جبکہ وزیرِ اعظم میلونی نے اس معاملے کو ہنسی مذاق میں اڑا دیا۔اطالوی روزنامہ لا ری پبلکا نے صفح اول پر شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں سب سے پہلے اس بات کی نشاندہی کی کہ باسیلیکا آف سینٹ لارنس اِن لوسینا کی ایک چیپل میں موجود دو فرشتوں میں سے ایک کی تصویر کو اس طرح بحال کیا گیا کہ وہ 49 سالہ جارجیا میلونی سے مشابہ نظر آتی ہے، جو اٹلی کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم ہیں۔اخبار نے تصویر کی بحالی سے قبل اور بعد کی تصاویر بھی شائع کیں اور کہا کہ اس سے قبل یہ فرشتہ ایک عام بچے کی شکل جیسا دکھائی دیتا تھا۔وزارتِ ثقافت نے کہا ہے کہ اس نے روم میں فنی ورثے کے اعلی عہدیدار کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسی دن بحال کی گئی پینٹنگ کا معائنہ کریں، جس کے بعد اگلا قدم اٹھانے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔اٹلی کی اپوزیشن جماعت فائیو اسٹار موومنٹ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم فن اور ثقافت کو کسی بھی صورت میں پروپیگنڈا یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے، خواہ تصویر میں دکھایا گیا چہرہ وزیرِ اعظم کا ہی کیوں نہ ہو۔