ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے حالیہ دہائیوں کی سب سے تباہ کن آتشزدگی کے بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
حادثہ وانگ فُک کورٹ ہاؤسنگ کمپلیکس کی عمارتوں میں جاری تعمیر و مرمت کے دوران غیر معیاری مواد کے استعمال کے سبب پیش آیا، جس سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔پولیس نے اب تک 13 افراد کو شبہِ قتلِ خطا کے الزام میں گرفتار کیا ہے، جبکہ انسداد بدعنوانی کمیشن نے 12 افراد کو ممکنہ کرپشن کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں کہ آیا گرفتار افراد کے درمیان کوئی تعلق ہے یا نہیں۔آگ سات رہائشی ٹاورز میں پھیل گئی، جہاں 4 ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ تاحال تین عمارتوں میں تلاش کا عمل مکمل ہونا باقی ہے، جبکہ تقریباً 30 افراد لاپتہ ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ عوامی غم و غصے کے پیشِ نظر، کسی کو بھی سانحے کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رہائشیوں نے قبل ازیں تعمیراتی مواد کے خطرات سے متعلق شکایات درج کی تھیں، لیکن سرکاری اداروں نے انہیں کم خطرہ قرار دیا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ ٹھیکیداروں نے غیر معیاری میش نصب کیے اور انسولیشن فوم نے آگ کو بھڑکایا، جبکہ فائر الارم بھی کام نہیں کر رہے تھے۔حادثے میں غیر ملکی گھریلو ملازمین اور پالتو جانور بھی ہلاک ہوئے۔ تقریباً 1,500 افراد کو ہنگامی مراکز سے ہٹایا گیا ہے، اور حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو 10 ہزار ہانگ کانگ ڈالر کی فوری مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔