پاکستان کی اعلیٰ عدالت، ہائی کورٹ ڈویژن بنچ نے کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل سے متعلق تمام پٹیشنز کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
عدالت نے اس حوالے سے وزارت دفاع، وفاقی حکومت، بورڈز کے صدور اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیے ہیں۔پٹیشنز کا تعلق راولپنڈی اور چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈز کے تمام سابقہ برطرف ممبران کی طرف سے دائر کی گئی ہیں۔ عدالت نے 8 دسمبر سے ان تمام درخواستوں کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عدالت کے جسٹس جواد حسن اور جسٹس رضا قریشی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ان پٹیشنز میں اہم آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کی آئینی مدت 31 مارچ 2026 کو مکمل ہونی ہے، اور چار ماہ قبل ان کا توڑنا غیر آئینی، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ توڑے گئے بورڈز کو فوری طور پر بحال کیا جائے، اور عارضی طور پر تشکیل دیے گئے تین تین رکنی نامزد بورڈز کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ عدالت نے سماعت کے دوران ان اہم قانونی نکات پر غور کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔