مراد سعید اسلام آباد احتجاج میں شرکت کے بعد وزیراعلیٰ کے پی ہاؤس میں روپوش: وزیر اطلاعات

 خفیہ ایجنسی کی رپورٹس تھیں فائنل کال میں قتل و غارت کی جائے گی،غیرقانونی احتجاج میں اسلام آباد کا امن سوچی سمجھی سازش کے تحت سبوتاژکیا گیا
اچھا نہیں لگتا گرفتاری کے لیے سی ایم ہاؤس میں چھاپہ ماریں،مراد سعید تربیت یافتہ جتھوں کے ساتھ شریک ہوئے، عطا تارڑ کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد احتجاج میں مراد سعید باقاعدہ طور پر تربیت یافتہ جتھوں کے ساتھ شریک ہوا۔اسلام آباد میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں عطا تارڑ نے کہا کہ مراد سعید کے ساتھ تربیت یافتہ جتھے تھے جنہوں نے پولیس اور رینجرز کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس میں روپوش ہے، اچھا نہیں لگتا کہ مراد سعید کی گرفتاری کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں چھاپہ ماریں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے، یہ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے جھوٹی کہانیاں بنا کر پیش کررہے ہیں جبکہ اسلام آباد کے احتجاج میں مسلح شرپسند موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ خفیہ ایجنسی کی رپورٹس تھیں کہ فائنل کال میں قتل و غارت کی جائے گی، اسلام آباد کا امن سوچی سمجھی سازش کے تحت سبوتاژکیا گیا، جب کوئی اہم موقع آتا ہے تو احتجاج کی کال دی جاتی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی اجازت نہیں تھی، یہ غیر قانونی احتجاج تھا، غیر قانونی احتجاج پر کے پی حکومت کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے، پی ٹی آئی کے احتجاج میں 37 افغان شہری تھے۔دنیا میں کہیں بھی مظاہرین اسلحے سے لیس نہیں آتے جنہوں نے فورسز پر بلااشتعال فائرنگ کی، تین رینجرز کے اہلکار جو شہید ہوئے کیا وہ پاکستانی نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کو ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی اجازت دی گئی تھی۔سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جلسے کی کوئی درخواست نہیں آئی۔