حکومت کو سرکاری ہسپتال چلانے ہی نہیں چاہییں، بددعائوں کے سوا ملتا کیا ہے؟ مصطفی کمال

ملک کا ہیلتھ بجٹ 1556 ارب ہے، 210 ارب میں ملک بھر کے عوام کو یونیورسل ہیلتھ فیسیلٹی دی جاسکتی ہے: وفاقی وزیر صحت
اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے  حکومت کو سرکاری ہسپتال نہیں چلانے چاہییں، بددعائوں کے سوا ملتا ہی کیا ہے؟۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس پمز اسپتال میں سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی صدارت میں شروع ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پمز میں بہت بڑا سانحہ ہوا ہے، اسپتال پر بہت زیادہ مریضوں کا بوجھ ہے ۔ ہمارے پاس سارے ثبوت موجود ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ صرف پمز نہیں بلکہ ملک کے اسپتالوں کا مسئلہ ہے۔ سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ 6 جولائی کو نرسز کے ہاسٹل میں آگ لگی، ای ڈی نے وزیر صحت کو بتایا تک نہیں ، ہر بات پر پردہ ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں بھی ای ڈی نے سب ثبوت مٹا دیے، اب کوئی ثبوت نہیں بچا تو پھر کیسی انکوائری؟کمیٹی اجلاس میں انکشاف ہوا کہ اتنے سالوں میں پمز اسپتال میں ہیلتھ کیئر اتھارٹی کا کوئی وزٹ نہیں ہوا۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا کہ پہلی چنگاری سے پورے کمرے میں آگ پھیلنے میں 120 سیکنڈز لگے۔ انہوں نے کہا کہ اے سی سے چنگاری گری، مجھے بتایا گیا تو میں نے اسی پر بیان دیا، بعد میں معلوم ہوا کہ اے سی خراب تھا۔۔مصطفی کمال نے کہا میری  رائے ہے  حکومت کو سرکاری ہسپتال چلانے ہی نہیں چاہییں ، ان ہسپتالوں میں ریگولر ملازم ہونے ہی نہیں چاہییں۔ انہوں نے بتایا کہ آج ملک کا ہیلتھ بجٹ 1556 ارب ہے، اس کے بدلے ہمیں بدعائوں کے سوا ملتا ہی کیا ہے