بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس دوبارہ معطل

 کوئٹہ(خصوصی رپورٹ) حکومت بلوچستان نے امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر صوبہ بھر میں مزید پندرہ روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی،کوئٹہ سمیت صوبہ بھرمیں ایک مرتبہ پھر موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل ہوگئی ،محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، اسلحہ کی نمائش اور پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، دھرنوں اور ریلیوں پر 15 روز کیلئے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مرد حضرات کیلئے نقاب پہننے یا منہ ڈھانپنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ گاڑیوں پر کالے شیشے لگانے پر پہلے ہی سے پابندی نافذ ہے جس پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دفعہ 144 مزید 15 روز کیلئے نافذالعمل ہوگی جو 31 اگست سے 14 ستمبر تک جاری رہے گی، اس دوران کوئٹہ سمیت بلوچستان کے ہر شہر میں ایک مرتبہ پھر موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل ہوگئی۔ گزشتہ ہفتے ہائیکورٹ کے حکم پر موبائل فون انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی تھی۔تاہم گزشتہ روزپھر سے انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی جس کے باعث صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس یکم اگست سے معطل ہے موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیا، ہسپتال اور واپڈا سمیت دیگر ایمرجنسی سروسز کے اداروں کو فرائض کی انجام دہی میں مشکلات درپیش ہیں اس سے قبل 21 اگست کو بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم دیا تھا، بلوچستان ہائیکورٹ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش کے خلاف آئینی درخواست پر بحالی کا حکم جاری کیا  گیاتھا۔