بنگلہ دیش میں حکومت کے خلاف مبینہ سازش کے الزام میں سابق وزیر اور ممتاز شخصیات سمیت 15 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کی گئیں۔ گرفتار شدگان میں وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی سابق کابینہ کے 87 سالہ رکن عبداللطیف صدیقی اور ڈھاکا یونیورسٹی کے پروفیسر حافظ الرحمٰن کرزون بھی شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ تمام افراد ڈھاکا رپورٹرز یونٹی کے ایک اجلاس میں شریک تھے جب اچانک ایک ہجوم نے دھاوا بول کر شرکا کو ہراساں کیا اور پھر پولیس کے حوالے کردیا۔ بعدازاں پولیس نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار گروپ حکومت گرانے اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش میں ملوث تھا۔
عدالت میں پیشی کے دوران پروفیسر حافظ الرحمٰن کرزون نے موقف اختیار کیا کہ "ہم مجرم نہیں بلکہ مظلوم ہیں"۔خیال رہے کہ 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش میں سیاسی حالات مسلسل ہلچل کا شکار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔