اسلام آباد (آئی این پی ) پاسکو کی جانب سے 74 ارب 47 کروڑ کی درآمدی گندم کی فروخت میں نا کامی کا انکشاف ہوا ہے ۔ میڈیارپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آڈٹ رپورٹ2024-25 میں نشاندہی کی ہے کہ اربوں روپے کی درآمدی گندم خراب ہونیکے باعث فروخت نہیں ہوئی۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں پاسکو کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پاسکو 74 ارب 47 کروڑ روپے مالیت کی درآمدی گندم فروخت کرنے میں ناکام رہا۔رپورٹ کے مطابق درآمدی گندم فنگس، سسری اورکھپرا گندم پاوڈر کے باعث استعمال کے قابل نہ رہی۔آڈیٹر جنرل نے گندم کی درآمد اور عدم فروخت کی مکمل تحقیقات کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ معاملے پر ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔رپورٹ کے مطابق صرف ضرورت کے مطابق درآمد شدہ گندم کی خریداری، فروخت ہونے چاہیے تھی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاسکو نے 23-2022 میں 12 لاکھ 58 ہزار میٹرک ٹن درآمد شدہ گندم خریدی جب کہ پاسکو نے 24-2023 میں ٹی سی پی کے ذریعے 3 لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ان 2سال میں پاسکو نے مجموعی طور پر 16 لاکھ 33 ہزار ٹن درآمدی گندم کی خریداری کی جب کہ پاسکو کو 9 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن درآمدی گندم فروخت کرنے میں کامیابی ملی۔آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاسکو 74 ارب 47 کروڑ روپیکی 6 لاکھ77 ہزار ٹن درآمدی گندم فروخت نہ کرسکا، یہ معاملہ جنوری 2025 کو پاسکو کو رپورٹ کیا گیا، کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔