اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے 2027 میں پاکستان میں مجوزہ ایس سی او سربراہی اجلاس کے نام پر وفاقی حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی لگژری بلٹ پروف گاڑیوں کی خرید و فروخت پر سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت کے کفایت شعاری کے منصوبے کو مکمل طور پر ختم شد قرار دے دیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں مشاہد حسین سید نے وفاقی حکومت کی شاہ خرچیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ حکومت کا کفایت شعاری کا منصوبہ مکمل طور پر دم توڑ چکا ہے، وفاقی حکومت نے 2027 میں پاکستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کو جواز بنا کر بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز جیسی 45 انتہائی قیمتی اور بلٹ پروف لگژری لیموزین گاڑیاں خریدنے کیلئے قوم کے 9 ارب 60 کروڑ روپے بے دردی سے ضائع کر دیئے۔حکومتی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے کل اراکین کی تعداد ہی صرف 10 ہے! اگر بھارت سمیت غیر ملکی رہنماں کی آمد کا حساب لگایا جائے تو صرف 9 غیرملکی سربراہانِ مملکت کی آمد کی خاطر 45 بلٹ پروف لگژری گاڑیاں خریدی گئی ہیں؟ آخر حکومت ان شاہ خرچیوں اور بے جا جوازوں کے ذریعے کس کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے؟۔