امن چاہتے ہیں‘ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے نہیں دیں گے: عطا ء تارڑ

سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ ہے ،  بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا:تقریب سے خطاب
خیبرپختونخواحکومت امن و امان ٹھیک کرنے میں مکمل ناکام ہوگئی،لانگ مارچ کرنا ہے تو دہشتگردی کے خلاف  اور لوگوں کے تحفظ کیلئے کریں :انٹرویو
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے  ہم امن چاہتے ہیں تاہم پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے نہیں دے سکتے ، سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ ہے، معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے۔  انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں پانی کا بطور ہتھیار استعمال، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی تاریخی، قانونی و تذویراتی پہلو پر خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی جانب سے رپورٹ کا اجرا لائق تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ بطور پاکستانی ہمیں فخر ہے کہ ہمارا تعلق سندھ طاس کی قدیم تہذیب سے ہے، طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد متعلقہ فریقین کے  لئے لازمی ہے اور بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا اس لئے  عالمی ثالثی عدالت بھی پاکستان کے موقف کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔  عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنا موقف سفارتی سطح پر اٹھایا، سندھ طاس معاہدے کو نہ معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی التوا میں رکھا جا سکتا ہے، ہم نے عالمی برادری کو سندھ طاس معاہدے پر اپنے قانونی موقف سے آگاہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ ہمارا پانی روکنا جنگی اقدام تصور ہوگا۔دریں اثناء ایک انٹرویو میں وزیراطلاعات نے کہا خیبرپختونخوان  حکومت امن و امان قائم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی، یوں لگتا ہے کے پی حکومت کی دہشت گردوں اور کالعدم ٹی ٹی پی سے ہمدردی ہے۔بے میں پی ٹی آئی حکومت کی گورننس مکمل تباہ ہو چکی ہے اور دہشتگرد دندناتے پھر رہے ہیں، صوبائی حکومت پولیس کی استعداد نہیں بڑھا سکی جس کی وجہ سے شہریوں کی لاشیں گر رہی ہیں، صوبے کے لوگوں میں غم و غصہ ہے کہ بنیادی ذمہ داری جان و مال کا تحفظ ہے جو صوبائی حکومت نہیں دے پا رہی۔ وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی لوگوں کو موبلائز کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے، وہ ان لوگوں کے ساتھ جا کر بیٹھے ہیں جن کو وہ پہلے ٹائو ٹ کہا کرتے تھے، انہوں نے علی امین گنڈاپور سے منتیں کیں اس کا مطلب ہے کہ وہ کمزور ہو چکے ہیں