لاہور ( خصوصی رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ نے موٹر سائیکل سپرداری کے معاملے پر عدالت سے غلط بیانی کرنے پر ڈی پی او پاکپتن کو طلب کرتے ہوئے تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا- لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار محمد خان کے وکیل ملک عاطف کھوکھر نے دلائل دئیے کہ درخواست گزار نے موٹر سائیکل چوری کا مقدمہ درج کرایا،موٹر سائیکل بر آمد ہونے پر تفتیشی افسر نے سپرداری کسی اور شخص کو دے دی،سپرداری مانگنے پر پولیس نے پٹیشنر کیخلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کر دیا،عدالت درج کردہ مقدمہ خارج کرنے اور سپرداری واپس کرنے کا حکم دے،مدعی مقدمہ کے خلاف ہی دھوکہ دہی کا مقدمہ کیسے درج کیا،اصل مالک کو سپرداری کیوں نہیں دی گئی،عدالت نے تھانہ سٹی عارف والہ کے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے، ڈی پی او پاکپتن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا