بھارتی نژاد کمپنی کو اربوں کا فراڈ، بلیک راک اور بین الاقوامی قرض دہندگان کو نقصان

بھارتی نژاد کمپنی کو اربوں کا فراڈ، بلیک راک اور بین الاقوامی قرض دہندگان کو نقصان

ویب ڈیسک: دنیا کی معروف سرمایہ کاری فرم بلیک راک اور متعدد بین الاقوامی قرض دہندگان کو شدید پریشانی کا سامنا، ایک مبینہ فراڈ میں 500 ملین ڈالر (تقریباً 44 ارب بھارتی روپے) سے زائد رقم ضائع ہونے کا انکشاف

یہ فراڈ بھارتی نژاد ٹیلیکام ایگزیکٹو برہم بھٹ کے کردار سے منسوب ہے۔ بلیک راک کی ذیلی کمپنی ایچ پی ایس انویسٹمنٹ پارٹنرز اور دیگر مالیاتی اداروں نے امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ برہم بھٹ نے اپنی ٹیلی کام کمپنیوں، براڈ بینڈ ٹیلی کام اور بریج وائس، کے ذریعے جعلی انوائسز اور فرضی اکاؤنٹس ریسیویبلز بنا کر قرض حاصل کیے۔مقدمے کے مطابق، برہم بھٹ کے نیٹ ورک پر 500 ملین ڈالر سے زیادہ واجب الادا ہیں۔ فرانسیسی بینک بی این پی پیریبہ نے بھی ان قرضوں کی فنانسنگ میں حصہ لیا تھا، لیکن بینک نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔یہ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا ہے جب بلیک راک نے رواں سال ہی ایچ پی ایس کو خرید کر پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو بڑھایا ہے۔

جولائی 2025 میں، ایچ پی ایس کے ایک ملازم نے مشکوک مماثلت والی گاہکوں کی ای میل ایڈریسز نوٹس کیں، جو جعلی ڈومینز سے بنائی گئی تھیں۔ مزید تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ بعض ’کلائنٹس‘ دراصل وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔جب ایچ پی ایس حکام نے برہم بھٹ سے وضاحت طلب کی، تو اس نے معاملہ ٹالنے کی کوشش کی اور پھر فون بند کر دیا۔ کمپنی کے نیویارک کے گارڈن سٹی دفتر پر چھاپہ مارنے پر وہ بند اور ویران پائے گئے۔رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو سالوں میں فراہم کیے گئے تمام کلائنٹ ای میلز جعلی تھیں، اور بعض معاہدے 2018 کے پرانے جعلی دستاویزات پر مبنی تھے۔عدالتی شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ برہم بھٹ نے کاغذی اثاثوں پر مبنی خیالی بیلنس شیٹ تیار کی تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے کروڑوں ڈالر کے قرض حاصل کیے جا سکیں، اور رقوم کو خفیہ طور پر بھارت اور ماریشس کے اکاؤنٹس میں منتقل کیا۔