صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پانچ روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد چین کے شہر سانیا سے وطن واپسی کی، اس دورے میں پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی، بحری معیشت، طبی ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون کو نئی جہت دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
دفتر خارجہ کے مطابق صدر زرداری 25 اپریل سے یکم مئی تک ہونان اور ہائی نان صوبوں کے دورے پر رہے، جو پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔صدر مملکت کو سانیا ایئرپورٹ پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا ہائی نان کے سینئر رہنما وانگ چیانگ نے الوداع کیا، جبکہ اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور چینی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران صدر زرداری نے چانگشا اور سانیا میں صوبائی قیادت کے ساتھ الگ الگ تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں سی پیک 2.0 کے تحت پاکستان میں صنعتی زونز، جدید زرعی نظام، بندرگاہی ترقی، بلیو اکانومی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چانگشا میں صدر زرداری کی موجودگی میں پاکستان اور چین کے اداروں کے درمیان سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے، زرعی ٹیکنالوجی، چائے کی پیداوار اور مشینی شعبے میں تعاون بڑھانے کیلئے تین اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ صدر نے چینی صنعتی اداروں کا دورہ کیا اور پاکستانی معیشت میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے میں انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر مینوفیکچرنگ اور صنعتی خودکفالت کی طرف جانا چاہتا ہے۔
سانیا میں قیام کے دوران مشینری، جانوروں کی ویکسینز، طبی آلات اور جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کیلئے دو مزید مفاہمتی یادداشتوں اور ایک مشترکہ سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اسی دورے میں صدر زرداری نے پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جسے پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت میں ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ آبدوز پاک چین دفاعی تعاون اور بحری سکیورٹی شراکت داری کے نئے مرحلے کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
صدر زرداری نے دورۂ چین کے دوران شاؤشان میں Mao Zedong کے آبائی شہر کا دورہ کر کے انہیں خراجِ عقیدت بھی پیش کیا، جبکہ مجموعی طور پر اس سرکاری دورے نے واضح کیا کہ پاکستان اب سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی ترقی، بلیو اکانومی، زرعی جدت، دفاعی پیداوار اور مشترکہ سرمایہ کاری کو پاک چین تعلقات کا مرکزی ستون بنانا چاہتا ہے۔ سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق یہ دورہ آئندہ مہینوں میں متعدد عملی منصوبوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔