پارلیمان کا اختیار تھا انہوں نے ترمیم کردی, ججز ٹرانسفر پر سیاست نہیں کرنے دیں گے،پیر مسعود
اسلام آباد (آن لائن)پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے تبادلے کو آئینی وقانونی قرار دے دیاہے جمعرات کو وائس چئیرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہاہے کہ دو روز پہلے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججز کی ٹرانسفر کی گئی،آئین کی بالادستی کے بغیر ملک آگے نہیں چل سکتا،پارلیمان کا اختیار تھا انہوں نے ترمیم کردی,ہم ججز ٹرانسفر کے معاملے پر سیاست نہیں کرنے دیں گے،پارلیمان نے اپنا اختیار استعمال کر کے آئینی ترمیم کی ہے کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے،جوڈیشل کمیشن ایک آئینی شق کے تحت کے بنایا گیا ہے،اگر لاہور ہائیکورٹ کے ججز دیگر بینچز میں کام کرتے ہیں تو کیا حرج ہے،اگر سول جج کا لاہور سے رحیم یار خان ٹرانسفر ہو جاتا ہے،کیا کبھی سول جج نے کہا کہ وہ گھر سے دور نہیں جائے گا،اسلام آباد کے ججز کو بھی دیگر علاقوں میں جا کر کام کرنا چاہیے،ٹرانسفر سے جوڈیشری کی آزادی کی متاثر نہیں ہوئی،آئینی ترمیم سے عدلیہ کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے،وفاقی آئینی عدالت میں ایک ہفتے میں کیسز لگ جاتے ہیں،پہلے سپریم کورٹ میں لوگوں کے کیسز نہیں لگتے تھے،لاہور ہائیکورٹ میں لوگوں کی اپیلوں پر فیصلے ہو رہے ہیں،پہلے لوگ مر جاتے تھے انکی اپیل نہیں لگتی تھی،اب لوگوں کو انصاف مل رہا ہے، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل نے کہاکہ بار کونسلز پورے ملک کے وکلا کی نمائندہ ادارے ہیں وکلا کی فلاح وبہبود کیلئے فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں چیف جسٹس پاکستان کو نامناسب الفاظ میں پکارا گیا۔جمہوری نظام میں فیصلے پارلیمانی نظام کے تحت کئے جاتے ہیں۔ججز کی تقرریاں آئین کے مطابق ہورہی ہیں ججز کی ٹرانسفر آئینی ترمیم کے تحت طریقہ کار کے مطابق ہورہی ہیں